ہوں خطا‌ وار کوئی سزا دیجئے

ہوں خطا‌ وار کوئی سزا دیجئے
پیار کا کچھ تو مجھ کو صلہ دیجئے


بے وفائی کا الزام دے کر مجھے
یوں نہ محفل سے اپنی اٹھا دیجئے


نفرتیں دل میں رکھنے سے کیا فائدہ
اختلافات باہم مٹا دیجئے


ہم بنائیں گے پھر اک نیا آشیاں
آپ توڑیں اسے یا گرا دیجئے


جستجو کیجئے اک نئے دور کی
ناامیدی کو دل سے مٹا دیجئے


آشیاں پھر بنایا ہے ہم نے فلک
شوق سے آپ بجلی گرا دیجئے


شاد رہتا ہے نیرؔ تو اے حاسدو
آگ خوشیوں میں اس کی لگا دیجئے