کہاں میں زر کے سمندر تلاش کرتا ہوں
کہاں میں زر کے سمندر تلاش کرتا ہوں
خلوص و پیار کے پیکر تلاش کرتا ہوں
تلاش کرتا نہیں دوسروں کے عیب کبھی
خود اپنی ذات کے اندر تلاش کرتا ہوں
میں دشمنی بھی کسی سے کروں تو کیسے کروں
حریف قد کے برابر تلاش کرتا ہوں
جلائے پیار کے دیپک بجھائے نفرت کے
میں ان ہواؤں کا لشکر تلاش کرتا ہوں
ہتھیلیوں کی لکیروں پہ کیا یقین کروں
میں حوصلوں سے مقدر تلاش کرتا ہوں
نفس-نفس میں تو ہی تو نسیمؔ سانسوں میں
میں تجھ کو جسم کے باہر تلاش کرتا ہوں