اے یار اب نہ دینا کوئی مشورہ مجھے

اے یار اب نہ دینا کوئی مشورہ مجھے
میں دیکھتا ہوں آئنہ اور آئنہ مجھے


کیسے کروں بتا میں ترا شکریہ ادا
تیرے فریب نے دیا اپنا پتہ مجھے


ساحل کی بزدلی تو قدم روکتی رہی
طوفاں کا شکریہ کہ دیا حوصلہ مجھے


ہے چار دن کا حسن ترا اے زمیں کے چاند
کہتا ہے بار بار یہی آئنہ مجھے


وہ آج ایک چوٹ سے بکھرا ہے چار سو
جو ہنس رہا تھا دیکھ کے کل غم زدہ مجھے


خون جگر نچوڑ کر لکھتا ہوں میں غزل
ملتا ہے جب بھی کوئی نیا قافیہ مجھے


میں حضرت نوازؔ کا دشمن غلط غلط
بدنام کر رہا ہے کوئی بے وجہ مجھے