دھڑکنے والا دل بھی تھم گیا ہے

دھڑکنے والا دل بھی تھم گیا ہے
چھڑا کر ہاتھ جب ہمدم گیا ہے


تمہاری یاد کا ہلکا سا جھونکا
مری پلکوں کو کرکے نم گیا ہے


خزاں جیسا لگا ہر ایک موسم
وہ دل کو دے کے ایسا غم گیا ہے


ادھر ماں نے خطائیں بخش دیں پھر
ادھر بیٹے کا اس کے دم گیا ہے


نوازؔ بے نوا تجھ کو مبارک
بلندی پر ترا پرچم گیا ہے