اتنے امکان کے اجالوں میں

اتنے امکان کے اجالوں میں
زندگی پھنس گئی وبالوں میں


تجزیہ خود کا جب کیا ہم نے
زیست گم ہو گئی سوالوں میں


کچھ نہیں اعتبار مستوں کا
رات دن غرق ہے پیالوں میں


آج بھی ویسی ہی وہ دکھتی ہے
کچھ نہیں بدلا اتنے سالوں میں


اب خیالوں میں تندرستی ہے
آ گئے جب سے تم خیالوں میں


میں ابھی سن کے آیا ہوں قصہ
آپ کا ذکر ہے مثالوں میں


ڈوبنے والے پھر نہ ابھرے ہیں
کتنے گرداب ہیں جمالوں میں


شرم سے لال کیا ہوا چہرہ
پڑ گئے گڈھے سرخ گالوں میں