ہندوستانی صوفیہ کا ذوق موسیقی


اس غیرت ناہید کی ہرتان ہے دیپکشعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھوساز و آواز اورشاعری کا حسین سنگم کسی بھی حساس انسان کے حسِ لطیف کو بے خود کرسکتا ہے۔ اعضا میں لرزش، جسم میں جنبش، خون میں تپش اور دل میں خلش پیدا کرسکتا ہے۔ ایک ذی شعور کو سرمست کرسکتاہے ایک سرمست کوبدمست کرسکتا ہے اور ایک بدمست کو مستِ مئے است کرسکتا ہے۔ اس سنگم میں وہ جادو ہے جو سامری کی ساحری کو بھی مات دے دے۔ موسیقی اور ترنم سن کربیمار کو قرار آجاتا ہے۔ روتے ہوئے بچے کو تسکین مل جاتی ہے۔ حدی خوانی کی آواز انٹوں کو بھی وارفتہ کرکے جانب منزل سبک خرام کردیتی ہے۔ خوش الحانی سے لگائو انسان انسانی فطرت میں شامل ہے یہی سبب ہے کہ حضرت دائودعلیہ السلام کو خوش الحانی کا معجزہ عطا فرمایاگیا۔ اس ترنم میں وہ کمال تھا کہ چرند وپرند تک سرمست وبے خود ہوجایا کرتے تھے۔ قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم خود قرآن مجید میں دیاگیا اور اہلِ اسلام نے قرآن کو سات قرأتوں میں پڑھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے موقع پر اشعار پڑھے۔ مختلف غزوات میں صحابہ نے رجزیہ اشعار پڑھے اور یہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہوا۔ تاریخی روایات شاہد ہیں کہ ہجرت کرکے جب آپ مدینہ طیبہ پہنچے تو اس شہر کاذرہ ذرہ خوشیوں سے جھوم رہاتھا اورننھی ننھی بچیاں بھی دف بجا کر شادیانے گارہی تھیں۔ اس طرح کی کئی مثالیں زمانہ رسالت میں ملتی ہیں۔ انہیں طریقوں پر عمل کرتے ہوئے اہل تصوف کے ایک طبقے نے اپنی مجلسوں میں سماع کو رائج کیا اور بعض نے تو اس پر بہت زور بھی دیا۔ سماع کے متعلق ایک بات بہت واضح ہے کہ اس میں صوفیہ کا ہردور میں اختلاف رہا ہے۔ ایک طبقہ اسے شرائط کے ساتھ جائز قرارد دیتا ہے تو دوسرا طبقہ اس کے عدم جواز کا قائل ہے اور اسے لہو ولعب میں شمار کرتا ہے۔ علماء کا بڑا طبقہ اسے درست نہیں مانتا اورسماع سے پرہیز کرتاہے۔ ہندوستان کے اولین صوفیہ میں سے ایک حضرت داتا گنج بخش سیدعلی ہجو یری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب کشف المحجوب میں اس کے دونوں پہلوئوں پر گفتگو کی ہے۔ اور صوفیہ کے اقوال پیش کیے ہیں جو حمایت اور مخالفت دونوں میں ہیں۔ حالانکہ یہاں شرعی دلائل نہیں ہیں بلکہ اہل تصوف کے خیالات ہیں۔ کشف المحجوب میں یہ بھی ہے کہ ابلیس نے سب سے پہلے بانسری اورطنبور ے بنا کرمحفل سماع قائم کی تاکہ حضرت دائود کے سامعین کو دو جماعتوں میں تقسیم کیا جاسکے۔ سماع کے تعلق سے صوفیہ کے اقوال درج ذیل ہیں، ’’ذوالنون بصری فرماتے ہیں کہ سماع حق کا فیض ہے جو دلوں کوحق کی طرف راغب کرتا ہے۔ پس جس حقیقی معنوں میں سنا اس نے راہ حق پالیا اور جس نے خواہش نفسی سے سنا وہ بے دین ہوگیا۔‘‘ایضاً’’ابو علی رودباری سماع کے متعلق فرماتے ہیں کاش کہ ہم اس سماع میں تحقیق کرنے والے ہوتے اور اہل نفس تاویل کرنے سے قاصر ہے جب کسی چیز کا حق فوت پالیتے ہیں۔ اس لیے کہ آدمی ہرچیز کاحق کو دیکھتا ہے اور جب اپنی تقصیر کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ کاش ہم بالکل چھوٹ جاتے۔‘‘ایضاً’’ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ بھیدوں کو پیدا کرنے کا نام سماع ہے جو دراصل باطن میں پوشیدہ ہیں۔ تاکہ ان کے ذریعہ سے حق تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر رہیں اس لیے کہ اسرار کا پوشیدہ رکھنا مریدوں کے لیے سخت قابل ملامت ہے اور ان کے سب سے برے صفات میں سے ہے کیونکہ دوست گو دوست سے بظاہر غائب ہو مگردل سے حاضر ہوتا ہے اور جب غیبت آگئی تو دوستی ختم ہوجاتی ہے۔‘‘ ایضاًیہ تمام صوفیہ کے اقوال سماع کے تعلق سے ہیں، جو کشف المحجوب میں درج ہیں۔ سماع کیا ہے؟سماع کیاہے؟ اس سوال کا جواب پہلے واضح ہونا چاہئے۔ سماع دراصل اہل تصوف کی وہ محفل ہے جس میں قوال عارفانہ اشعار گاتے ہیں اوراس میں مزامیر بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر شعرخوانی بغیر مزامیر کے ہوتو بلا اختلاف اسے علماء اور صوفیہ درست قرار دیتے ہیں لیکن اگر مزامیر کے ساتھ ہوتو صوفیہ کا ایک طبقہ ہی اسے جائز قرار دیتا ہے جب کہ دوسرا طبقہ سختی کے ساتھ اس کا مخالف ہے۔ ہندوستان میں چشتی سلسلے کے صوفیہ میں اس کاتواتر کے ساتھ روا ج رہاہے اور بعض صوفیہ وعلماء مخالفت کے باوجود اس پر عمل پیرا رہے ہیں۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ، خوابہ قطب الدین بختیار کاکی، بابافریدالدین گنج شکر، حضرت نظام الدین اولیائؒ، چشتی سلسلے کے وہ معروف بزرگ ہیں جو سماع کو پسند کرتے تھے اور پابندی کے ساتھ محفل سماع کا انعقاد کرتے رہتے تھے۔ حضرت نظام الدوین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں تو علماء کی طرف سے اس قدر سماع کی مخالف بڑھی کہ آپ کو بادشاہ غیاث الدین تغلق کی موجودگی میں علماء کے ایک محاضرے کے سامنے حاضر ہوکر اپنی صفائی پیش کرنی پڑی۔ ایک بڑا طبقہ ہردور میں اس کا مخالف رہا باوجود اس کے ہر عہد میں بعض اہل تصوف اس پر عمل پیرا رہے۔ قادری سلسلے میں عموماً سماع کا رواج نہیں تھا مگر بعض بزرگ اس کے قائل تھے، جیسے گوالیار کے محمد غوث گوالیاری رحمۃ اللہ علیہ نہ صرف سماع کے قائل تھے بلکہ آپ خود بھی موسیقی کے فن میں یکتائے زمانہ تھے۔ معروف موسیقار تان سین کی پرورش آپ ہی کے یہاں ہوئی تھی اوریہیں اس نے موسیقی کے رموز سیکھے تھے بعد کے دور میں یہ موسیقی کااسکول قرار پایا جسے گوالیار گھرانہ کہاجاتا ہے۔ چشتی سلسلے کے صوفی اور محبوب الٰہی نظام الدین اولیاء کے مرید خاص حضرت امیر خسرو بھی موسیقی کے ماہرین میں سے تھے اور بعض راگوں کے موجد تھے وہ کئی بادشاہوں، شہزادوں اورامراء کے دربار سے منسلک رہے جہاں اپنی شاعری اور موسیقی میں مہارت کی وجہ سے ہردلعزیز رہے۔ جس طرح صوفی ازم رفتہ رفتہ پوری دنیا میں پھیلا اور اس کے اثرات عام ہوئے اسی طرح صوفیانہ موسیقی بھی دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلا۔ اگرہم پوری دنیا کونظرانداز کردیں اورصرف ہندوستان کی سطح پر ہی نظر دوڑائیں توہمیں صوفیانہ موسیقی میں تنوع نظر آجائے گا۔ قوالی، قدیم صوفیانہ موسیقی کی ایک فارم ہے۔ حضرت امیرخسرو دہلوی کو اس کا موجد بتایا جاتا ہے۔ کشمیر کی صوفیانہ موسیقی اس سے بالکل جدا ہے۔ اسی طرح پنجاب، بنگال اور آسام کی صوفیانہ موسیقی کی اپنی الگ شناخت ہے۔ سندھی زبان میں صوفیانہ موسیقی کے تحت جو گیت گائے جاتے ہیں وہ ان لوگوں میں بھی مقبول ہیں جو سندھی زبان نہیں جانتے۔ مقبولیت کی ایک مثال ’’دمادم مست قلندر‘‘ ہے۔ اردو میں بہت زیادہ لکھا گیا ہے۔ جتنا کچھ لکھاگیا ہے وہ تمام موسیقی کے کمپوزیشن کے ساتھ گاپانا بے حد مشکل ہے۔