ہر چیز کے سینے میں کوئی بول رہا ہے
ہر چیز کے سینے میں کوئی بول رہا ہے
خاموشیٔ اسرار بھی تقریر نما ہے
جولانئ افکار ہے مطلوب گلستاں
یہ موج صبا بھی کسی غنچے کی صدا ہے
ہے تیرے تبسم میں نہاں برق نہاں سوز
سو بار مرے ہاتھوں ترا پردہ اٹھا ہے
گر کر بھی ہے دل اوج ثریا کے برابر
کیا جانئے یہ کون سی رفعت سے گرا ہے
دنیا کے لئے میں کبھی الجھا ہوں خدا سے
یہ دہر کبھی میرے ہی ہاتھوں سے جلا ہے
مانا کہ بہت تلخ تھے سقراط کے اوقات
میں نے بھی تو حالات کا زہراب پیا ہے
اے میرے تصور مری آنکھوں پہ عیاں ہو
میں غیر نہیں کس لئے تو مجھ سے چھپا ہے
اس خسروی ماحول میں دل والوں سے کہہ دو
یاں شیریں نے فرہاد کا کب ساتھ دیا ہے
ہم دونوں ملاقات کے طالب تو ہیں لیکن
میں پیکر خوشبو ہوں وہ گل برگ حیا ہے
دیکھو تو کرشمہ ہے ٹھکانوں کا بدلنا
ہے رخ پہ تمہارے تو مرے دل میں خدا ہے
زر تیرے لیے ہے نہ کہ تو زر کے لیے ہے
یہ زر کی غلامی ہوس زر کی سزا ہے
گردش نے زمانے کی جدا کر دیا مجھ کو
اس کھیت سے جس سے یہ مرا جسم اگا ہے
جو اشک کہ گرتا تھا مری ماں کی لحد پر
وہ اشک مری آنکھ میں برسوں سے رکا ہے