ہاں اگر دن کو کبھی رات کہا جاتا ہے
ہاں اگر دن کو کبھی رات کہا جاتا ہے
اس کو مجبورئ حالات کہا جاتا ہے
آسماں ہو کے بھی جو لوگ زمیں جیسے ہیں
ایسے لوگوں کو ہی سادات کہا جاتا ہے
جب سنا اوروں کے منہ سے تو یہ جانا میں نے
میری شہرت میں ترا ہات کہا جاتا ہے
آنکھ سے گر کے مرے اشک زمیں دوز ہوئے
ہجر میں اس کو ہی برسات کہا جاتا ہے
بعد جانے کے بھی سینہ میں مرے بیٹھا رہا
اس کو ہی سچی ملاقات کہا جاتا ہے