دل صحرا آباد بھی کرنا پڑتا ہے

دل صحرا آباد بھی کرنا پڑتا ہے
اس ظالم کو یاد بھی کرنا پڑتا ہے


بے مقصد کے شغل بھی راس آ جاتے ہیں
وقت کبھی برباد بھی کرنا پڑتا ہے


عرض ہی کرتے رہنے میں گھاٹا ہے بہت
کبھی کبھی ارشاد بھی کرنا پڑتا ہے


جلووں کے خوش رنگ پرندوں کی خاطر
آنکھوں کو صیاد بھی کرنا پڑتا ہے


آمد کے قائل تو ہم بھی ہیں لیکن
فن پارہ ایجاد بھی کرنا پڑتا ہے