دل کے پنے سے نہیں مٹتی عبارت ان کی
دل کے پنے سے نہیں مٹتی عبارت ان کی
اب بھی قائم ہے مرے دل میں محبت ان کی
لوگ کرتے ہیں اندھیروں میں تجارت دیکھو
سامنے آتی نہیں اب تو حقیقت ان کی
پھول اتراتے ہیں ڈالی پہ ذرا دیکھو تو
خوب بھاتی ہے مرے دل کو زیارت ان کی
یاد بھی ذہن سے پھر دور بھلا ہو کیسے
پاس مجھ کو جو بلا لیتی ہے قربت ان کی
جب سے چہرے پہ پڑے وقت کے تھپڑ انورؔ
بدلی بدلی سی نظر آتی ہے صورت ان کی