بابری مسجد کا غم

تم سے تو ایک بابری مسجد نہ بچ سکی

تنہا حسینؓ ،  ساری شریعت بچا گیا

6دسمبر جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا

بابری مسجد (یا ،  میر باقی مسجد) جو مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے نام سے منسوب ہے، بھارتی ریاست اترپردیش کی بڑی مساجد میں سے ایک تھی۔ اسے مغل سالار میر باقی نے تعمیر کروایا تھا۔9 نومبر 2019 کو ہندوستانی عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے تعلق سے اپنا حتمی فیصلہ سنایا، سپریم کورٹ کے جج نے اسے ہندو توا کے حق میں دےدیا۔پانچ اگست دو ہزار بیس کو  بھارت  کے وزیراعظم کے ہاتھوں رام مندر کے لیے سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔

بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر ( 1483ء ۔ 1531ء) کے حکم سے دربار بابری سے منسلک ایک نامور شخص میر باقی کے ذریعہ سن 1527ء میں اتر پردیش کے مقام ایودھیا میں تعمیر کی گئی یہ مسجد اسلامی مغل فن تعمیر کے اعتبار سے ایک شاہکار تھی۔ بابری مسجد کے اوپر تین گنبد تعمیر کیے گئے جن میں درمیانی گنبد بڑا اور اس کے ساتھ دو چھوٹے گنبد تھے۔ گنبد کے علاوہ مسجد کو پتھروں سے تعمیر کیا گیا تھا جس میں صحن بھی شامل تھا۔ صحن میں ایک کنواں بھی کھودا گیا۔ گنبد چھوٹی اینٹوں سے بنا کر اس پر چونا کا پلستر کیا گیا تھا۔ مسجد کو ٹھنڈا رکھنے کی غرض سے اس کی چھت کو بلند بنایا گیا روشنی اور ہوا کے لیے جالی دار کھڑکیاں نصب تھیں۔ اندرونی تعمیر میں ایک انتہائی خاص بات یہ تھی کہ محراب میں کھڑے شخص کی سرگوشی کو مسجد کے کسی بھی اندرونی حصے میں آسانی سے سنا جا سکتا تھا۔ الغرض یہ اسلامی فن تعمیر کا شاہکار تھا۔ بابری مسجد کو 1992ء میں انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں شہید/مسمار کر دیا گیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایل کے اڈوانی کی قیادت میں سخت گیر تنظیموں وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور شیو سینا کے ساتھ رام مندر کی تعمیر کے لیے ایک تحریک چلائی تھی۔ تحریک کے دوران میں 6 دسمبر 1992ءکو ہزاروں ہندو کارسیوکوں نے بی جے پی اور وشوا ہندو پریشد کے ا علیٰ رہنماؤں اور نیم فوجی دستوں کے سینکڑوں مسلح جوانوں کی موجودگی میں تاریخی مسجد کو منہدم کر دیا تھا۔ جس کے بعد دہلی اور ممبئی سمیت ہندوستان میں تقریباً دو ہزار مسلمانوں کو ہندو مسلم فسادات میں مار دیا گیا۔ بابری مسجد کے انہدام سے پہلے ہندو مظاہرے کے منتظمین نے یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ مسجد کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ اس مظاہرے میں ہندوستان بھر سے تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ لوگوں نے شرکت کی تھی۔ بابری مسجد ہندووں کے نظریہ کے مطابق رام کی جنم بھومی پر یا رام مندر پر تعمیر کی گئی۔ جب کہ مسلمان اس نظریہ کو مسترد کرتے ہیں۔ بابری مسجد کا تنازع اس وقت بھی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان میں شدید نزاع کا باعث ہے اور اس کا مقدمہ بھارتی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

بعض شر انگیز افراد جن میں آگے چل کر وشو اہندو پریشد نامی تنظیم بھی شامل ہو گئی تھی، نے ایک پروپیگنڈا پھیلایا تھا۔ اس کا حاصل یہ تھا کہ بابری مسجد رام کی جنم بھومی یعنی جائے پیدائش کو گرا کر تعمیر کی گئی ہے۔

1949ء میں مسجد کو بند کرا دیا گیا۔ اس طرح 40 سال سے زائد عرصے تک یہ مسجد متنازع رہی۔ 6 دسمبر 1992ء کو ان عناصر نے مسجد کو مسمار کر دیا. جس کے بعد بھارت میں اپنی تاریخ کے بدترین ہندو مسلم فسادات ہوئے۔ جن میں تین ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ اس حوالے سے ٹائم لائن یہ ہے۔

1528: ایک ایسے مقام پر مسجد کی تعمیر جو کچھ ہندو تنظیموں کے دعویٰ کے مطابق ’رام ‘کی جائے پیدائش تھی۔

1853ء: ایودھیا کے پہلے مذہبی فسادات۔

1859ء: برطانوی نوآبادیاتی حکومت کی جانب سے عبادت کی جگہ کی تقسیم کر دی گئی۔

1949ء: مسجد کے اندر سے ’رام ‘کی مورتی کی دریافت۔ حکومت نے متنازع مقام قرار دے کر مسجد بند کروا دی۔

1984ء: وشوا ہندو پریشد کی جانب سے ’رام ‘کی جائے پیدائش کو آزاد کروانے کے لیے تحریک کا اعلان۔

 بی جے پی کے رہنما لعل کرشن ایڈوانی نے اس تحریک کی قیادت سنبھال لی۔

1986ء: ضلعی عدالت کی جانب سے ہندوؤں کو متنازع مقام پر پوجا کی اجازت۔ مسلمانوں کا جانب سے بابری مسجد ایکشن کمیٹی کا قیام۔

1989ء: وشوا ہندو پریشد نے مسجد سے ملحقہ زمین پر رام مندر کی بنیاد رکھ دی۔

1990ء: وشوا ہندو پریشد کے حامیوں نے مسجد کو جزوی طور پر نقصان پہنچایا۔ بھارتی وزیرِاعظم کی جانب سے مسئلے کے حل کی کوشش۔

1991ء: ریاست اتر پردیش میں بی جے پی حکومت کا قیام۔

1992ء: وشوا ہندو پریشد کے حامیوں کی جانب سے بابری مسجد کی شہادت۔ ہندو مسلم فسادات، تین ہزار افراد ہلاک۔

2001ء: انہدام کے 9 برس مکمل ہونے پر وشوا ہندو پریشد کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کا عزمِ نو۔

جنوری 2002ء: وزیرِاعظم واجپائی کے دفتر میں ’ایودھیا سیل‘ کا قیام۔

فروری 2002ء: بی جے پی کی جانب سے انتخابی منشور میں سے رام مندر کی تعمیر کی شق خارج۔ ایودھیا سے واپس آنیوالے ہندوؤں کی ٹرین پر حملہ 58،  ہلاک۔ وشوا ہندو پریشد کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کے آغاز کے لیے پندرہ مارچ کی تاریخ کا اعلان۔

مارچ2002ء: گجرات مسلم کش فسادات میں دو ہزار افراد ہلاک۔

اپریل 2002ء: ایودھیا کے متنازع مقام کی ملکیت کے بارے میں مقدمے کی سماعت کا آغاز۔

جنوری 2003ء: ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی جانب سے عدالت کے حکم پر متنازع مقام کے جائزہ کا آغاز۔

اگست2003ء: ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی جانب سے مسجد کے نیچے مندر کی موجودگی کے شواہد کا اعلان۔  مسلمانوں کی جانب سے اعتراضات۔

ستمبر 2003ء:عدالت کی طرف سے بابری مسجد کے انہدام پر ا کسانے کے الزام میں سات ہندو رہنماؤں پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ۔

اکتوبر 2003ء: مسلم تنظیموں کی جانب سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی رپورٹ کو جانب دار قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کرنے کا مطالبہ۔

دسمبر 2003ء: انہدام کی گیارہویں برسی پر حیدرآباد دکن میں فسادات۔ پانچ افراد ہلاک۔

جولائی 2004ء: شیوسینا کے رہنما بال ٹھاکرے کی جانب سے مسئلے کے حل کے لیے متنازع مقام پر قومی یادگار کی تعمیر کی تجویز۔

اکتوبر2004ء: لال کرشن ایڈوانی کی جانب سے مندر کی تعمیر کی عزم کا اعادہ۔

نومبر 2004ء: الٰہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بابری مسجد معاملہ میں لعل کرشن ایڈوانی کو نوٹس۔

اکتوبر 2010ء: الٰہ آباد عدالت نے فیصلے میں بابری مسجد کی زیادہ تر زمین ہندوؤں کے دو فریقوں کو دے دی۔ تاہم سابقہ مسجد کی زمین کے ایک تہائی حصے پر مسجد کی دوبارہ تعمیر کی گنجائش رکھی۔

دسمبر 2015ء بڑے پیمانے پر تعمیری پتھروں کو بابری مسجد کی زمین پر وشوا ہندو پریشد کی جانب سے بھیجا گیا۔

10 نومبر 2019 کو، سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے بارے میں تمام شواہد قبول کرلیے ۔ پھر بھی، ہندوستانی جمہوریت سے انکار کرتے ہوئے، بابری مسجد کی سرزمین کو عقیدے کی بنیاد پر ہندوؤں کے حوالے کردیا گیا۔

متعلقہ عنوانات