ناصر کیا کہتا پھرتا ہے

وہ ہجر کی رات کا ستارہ  ، وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا

صدا رہے اس کا نام پیارا ، سنا ہے کل رات مر گیا وہ

وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تُو نے منزلوں کا

تری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ

وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصرؔ

تری گلی تک تو ہم نے دیکھا تھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ

 

ناصر کاظمی 8 دسمبر 1925 کو انبالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سیّد ناصر رضا کاظمی تھا۔ ان کے والد سیّد محمد سلطان کاظمی فوج میں صوبیدار میجر تھے اور والدہ اک پڑھی لکھی خاتون  تھیں اور انبالہ کے مشن گرلز اسکول میں ٹیچر تھیں۔ ناصر نے پانچویں جماعت تک اسی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ بعد میں ماں کی نگرانی میں گلستاں، بوستاں، شاہنامہ فردوسی، قصہ چہار درویش، فسانہ آزاد، الف لیلٰیٰ، صرف و نحو اور اردو شاعری کی کتابیں پڑھیں۔ بچپن میں پڑھے گئے داستانوی ادب کا اثر ان کی شاعری میں بھی ملتا ہے۔ ناصر نے چھٹی جماعت نیشنل اسکول پشاور سے، اور دسویں کا امتحان مسلم ہائی اسکول انبالہ سے پاس کیا۔ انھوں نے بی اے کے لئے لاہور گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا تھا، لیکن تقسیم کے ہنگاموں میں ان کو تعلیم چھوڑنی پڑی۔ وہ نہایت کسمپرسی کی حالت میں پاکستان پہنچے تھے۔ ناصر نے کم عمری میں ہی شاعری شروع کر دی ھی۔ ان کا ترنم بہت اچھا تھا۔ شاعری میں ان کے ابتدائی ماڈل میر تقی میر اور اختر شیرانی تھے۔ ان کی شاعری میں عشق کی بڑی کار فرمائی رہی۔ مزاج لڑکپن سے عاشقانہ تھا۔ چنانچہ وہ پوری طرح جوان ہونے سے پہلے ہی گھائل ہو چکے تھے۔

 ناصر کا پچپن لاڈ پیار میں گزرا تھا اور کوئی محرومی ان کو چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔ کبوتر بازی، گھوڑ سواری، سیر سپاٹا، ان کے مشاغل تھے لیکن جب پاکستان پہنچ کر ان کی زندگی تلپٹ ہو گئی تو انھوں نے اک مصنوعی اور خیالی زندگی میں پناہ ڈھونڈی۔

 وہ دوستوں میں بیٹھ کر لمبی لمبی غپیں ہانکتے  اور دوست ان سے لطف اندوز ہوتے ۔ مثلا شکار کے دوران شیر سے ان کا دو بار سامنا ہوا لیکن دو طرفہ مروّتیں آڑے آ گئیں۔  ایک بار تو شیر قیلولہ کر رہا تھا اس لئے انھوں نے اس کے آرام میں مخل ہونا مناسب نہیں سمجھا، پھر دوسری بار جب شیر جھاڑیوں سے نکل کر ان کے سامنے آیا تو ان کی بندوق میں اس وقت کارتوس نہیں لگا تھا۔ شیر نظریں نیچی کر کے جھاڑیوں میں واپس چلا گیا۔ ایک بار البتہ انھوں نے شیر مار ہی لیا۔ اس کی چربی اپنے کبوتروں کو کھلائی تو بلیاں ان کبوتروں سے ڈرنے لگیں۔ وہ ایسی جگہ اپنی ہوائی جہاز کے ذریعہ آمد بیان کرتے جہاں ہوائی اڈہ ہوتا ہی نہیں تھا۔ تخیل کو حقیقت کے طور پر جینے کی ناصر کی ان کوششوں پر ان کے دوست زیر لب مسکراتے بھی تھے اور ان کے حال پر افسوس بھی کرتے تھے۔

 انبالہ میں اک بڑی کوٹھی میں رہنے والے ناصر کو لاہور میں پرانی انارکلی کے اک خستہ حال مکان میں دس برس رہنا پڑا۔ ہجرت کے بعد وہ بیروزگار اور بے یار و مددگار تھے۔ ان کے والدین تقسیم کی ہولناکیوں اور اس کے بعد کے مصائب زیادہ دن نہیں جھیل سکے اور چل بسے۔ ناصر نے محکمہ بہبود اور محکمہ زراعت میں چھوٹی موٹی نوکریاں کیں۔ پھر ان کے اک ہمدرد نے ضابطوں میں رعایت کرا کے ان کو ریڈیو پاکستاں میں ملازمت دلا دی اور وہ باقی زندگی اسی سے وابستہ رہے۔

 ناصر نے جتنی ملازمتیں کیں، بے دلی سے کیں۔ ڈسپلن اور ناصر کاظمی دو متضاد چیزیں تھیں۔ محنت کرنا انھوں نے سیکھا ہی نہیں تھا، اسی لئے رغبت اور اور شوق کے باوجود وہ میوزک اور مصوری نہیں سیکھ سکے۔ وہ اک آزاد پنچھی کی طرح فطرت کے حسن میں ڈوب جانے اور اپنے داخل و خارج کی کیفیات کے نغمے سنانے کے قائل تھے۔

وہ شاعری کو اپنا   سب کچھ  کہتے تھے۔ شادی کی پہلی رات جب انھوں نے اپنی بیوی کو یہ بتایا کہ ان کی اک اور بیوی بھی ہے تو دلہن کے ہوش اڑ گئے ۔ پھر انھوں نے ان کو اپنی کتاب "برگ نے" پیش کی اور کہا کہ یہ ہے ان کی دوسری بیوی۔ یہی کتاب ان کی طرف سے دلہن کو  منہ دکھائی تھی۔

 اپنی نجی زندگی میں ناصر حد درجہ لا ابالی اور خود اپنی جان کے دشمن تھے۔ 26 سال کی عمر سے ہی ان کو دل کی بیماری تھی لیکن کبھی پرہیز نہیں کیا۔ انتہائی تیز چونے کے پان کھاتے۔ ایک کے بعد ایک سگرٹ سلگاتے، ہوٹلوں پر جا کر نان، مرغ، اور کباب کھاتے اور دن میں درجنوں بار چائے  پیتے۔  رات کو سڑکوں پر پیدل چلنا  ان کا معمول تھا۔ رات رات بھر آوارہ گردی کرتے۔ ان بے اعدالیوں کی وجہ سے ان کو 1971ء میں معدہ کا کینسر ہو گیا اور 2 مارچ 1972 کو ان کا انتقال ہو گیا۔

"برگ نے" کے بعد ان کے دو مجموعے "دیوان" اور "پہلی بارش" شائع ہوئے۔ "خواب نشاط" ان کی نظموں کا مجموعہ ہے انھوں نے اک منظوم ڈرامہ " سُر کی چھایا" بھی لکھا۔ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک اچھے نثر نگار بھی تھے۔ ریڈیو کی ملازمت کے دوران انھوں نے کلاسیکی اردو شاعروں کے خاکے لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔

ناصر کاظمی کی شخصیت اور شاعری دونوں میں اک عجیب طرح کی سحر انگیزی پائی جاتی ہے۔ اپنی روایتی لفظیات کے باوجود انھوں نے غزل کو اپنی طرزِ ادا کی برجستگی اور ندرت سے سنوارا۔

انھوں نے نظریاتی میلانات سے بلند ہو کر شاعری کی ۔ اس لئے ان کا میدانِ شعر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ وسیع اور متنوع ہے جس میں بہرحال مرکزی حیثیت عشق کی ہے۔ ان کی تمام شاعری اک حیرت کدہ ہے جس میں داخل ہونے والا دیر تک اس کے سحر میں کھویا رہتا ہے۔ انھوں نے شاعری اور نثری اظہار کے لئے نہایت سادہ اورعام فہم زبان استعمال کی۔ ان کی گفتگو کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔

 ان کی نثر بھی خود ان کی طرح سادہ مگر گہری ہے۔ انھوں نے حرف ِزیر ِلبی کے دھیمے، داخلی اور سرگوشیانہ لہجہ میں اپنا وجود منوایا اور اردو غزل کو کلیشوں سے آزاد کرتے ہوئے اس کے پوشیدہ امکانات سے استفادہ کیا اور اسے تخلیقی کمال کی نئی دہلیز پر لا کھڑا کیا۔

ناصر کاظمی کے چند منتخب اشعار

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

 

پرانی صحبتیں یاد آ رہی ہیں
چراغوں کا دھواں دیکھا نہ جائے

 

آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد

آج کا دن گزر نہ جائے کہیں

 

وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا

جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے

 

آرزو ہے کہ تو یہاں آئے

اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں

 

اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود

محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی

 

دائم آباد رہے گی دنیا

ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا

 

ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ

اداسی بال کھولے سو رہی ہے

 

کون اچھا ہے اس زمانے میں

کیوں کسی کو برا کہے کوئی

 

بھری دنیا میں جی نہیں لگتا

جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی

 

وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ

غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

 

دل تو میرا اداس ہے ناصرؔ

شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

 

یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے

تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل

 

نئی دنیا کے ہنگاموں میں ناصرؔ

دبی جاتی ہیں آوازیں پرانی

 

اپنی دھن میں رہتا ہوں

میں بھی تیرے جیسا ہوں

 

دن بھر تو میں دنیا کے دھندوں میں کھویا رہا

جب دیواروں سے دھوپ ڈھلی تم یاد آئے

 

کپڑے بدل کر بال بنا کر کہاں چلے ہو کس کے لیے

رات بہت کالی ہے ناصرؔ گھر میں رہو تو بہتر ہے

 

رات کتنی گزر گئی لیکن

اتنی ہمت نہیں کہ گھر جائیں

 

وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا

اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لیے

 

نیت شوق بھر نہ جائے کہیں

تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں

 

تجھ بن ساری عمر گزاری

لوگ کہیں گے تو میرا تھا

 

نہ ملا کر اداس لوگوں سے

حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں

 

حال دل ہم بھی سناتے لیکن

جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا

 

میں تو بیتے دنوں کی کھوج میں ہوں

تو کہاں تک چلے گا میرے ساتھ

 

 

نیند آتی نہیں تو صبح تلک

گرد مہتاب کا سفر دیکھو

 

انہیں صدیوں نہ بھولے گا زمانہ

یہاں جو حادثے کل ہو گئے ہیں

 

کل جو تھا وہ آج نہیں جو آج ہے کل مٹ جائے گا

روکھی سوکھی جو مل جائے شکر کرو تو بہتر ہے

 

منتخب غزلیں

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے

وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے

وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں

جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے

میں اُن کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر

وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے

یہ کون لوگ ہیں مرے ادھر اُدھر

وہ دوستی نبھانے والے کیاہوئے

وہ دل میں کھبنے والی آنکھیں کیا ہوئیں

وہ ہونٹ مسکرانے والے کیا ہوئے

عمارتیں تو جل کے راکھ ہو گئیں

عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے

اکیلے گھر سے پوچھتی ہے بے کسی

ترا دیا جلانے والے کیا ہوئے

یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا

زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ

بستی اب کے ایسی اجڑی گھر گھر پھیلا سوگ

سارا سارا دن گلیوں میں پھرتے ہیں بے کار

راتوں اٹھ اٹھ کر روتے ہیں اس نگری کے لوگ

سہمے سہمے سے بیٹھے ہیں راگی اور فنکار

بھور بھئے اب ان گلیوں میں کون سنائے جوگ

جب تک ہم مصروف رہے یہ دنیا تھی سنسان

دن ڈھلتے ہی دھیان میں آئے کیسے کیسے لوگ

ناصرؔ ہم کو رات ملا تھا تنہا اور اداس

وہی پرانی باتیں اس کی وہی پرانا روگ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ

عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ

بس ایک موتی سی چھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر

ستارۂ شام بن کے آیا برنگ خواب سحر گیا وہ

خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم نظر اسے ڈھونڈتی ہے ہر دم

وہ بوئے گل تھا کہ نغمۂ جاں مرے تو دل میں اتر گیا وہ

نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا

یوں ہی ذرا سی کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ

کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دور آسماں بھی

جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے جو دن کڑا تھا گزر گیا وہ

بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہل دل کے

یہی تو ہے فرق مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ

شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں

جو قافلہ میرا ہم سفر تھا مثال گرد سفر گیا وہ

مرا تو خوں ہو گیا ہے پانی ستم گروں کی پلک نہ بھیگی

جو نالہ اٹھا تھا رات دل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ

وہ مے کدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اڑانے والا

یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ

وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا

صدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ

وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تو نے منزلوں کا

تری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ

وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصرؔ

تری گلی تک تو ہم نے دیکھا تھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ

۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ یادگارِ شہرِ ستم گر ہی لے چلیں

آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں

یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر

سر پر خیال یار کی چادر ہی لے چلیں

رنجِ سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو

تھوڑی سی خاکِ کوچہِ دلبر ہی لے چلیں

یہ کہہ کر چھیڑتی ہے ہمیں دل گرفتگی

گھبرا گئے ہیں آپ تو باہر ہی لے چلیں

اس شہرِ بے چراغ میں جائے گی تو کہاں

آ اے شبِ فراق تجھے گھر ہی لے چلیں