Taj Saeed

تاج سعید

تاج سعید کے تمام مواد

6 غزل (Ghazal)

    کس نے آ کر ہم کو دی آواز پچھلی رات میں

    کس نے آ کر ہم کو دی آواز پچھلی رات میں کون ہم کو چھیڑنے آیا ہے ان لمحات میں ہم ملے تھے مال پر کل جس لچکتی ڈال سے کانچ کی تھیں چوڑیاں اس مہ جبیں کے ہات میں روح پرور کیفیت موسم کی تھی پھر اس کا ساتھ یار سمجھے ہم نے دارو پی ہے اس برسات میں سبز پیڑوں کی سنیں یا ان سے پھر اپنی کہیں دیر ...

    مزید پڑھیے

    شہر کے دیوار و در پر رت کی زردی چھائی تھی

    شہر کے دیوار و در پر رت کی زردی چھائی تھی ہر شجر ہر پیڑ کی قسمت میں اب تنہائی تھی جینے والوں کا مقدر شہرتیں بنتی رہیں مرنے والوں کے لیے اب دشت کی تنہائی تھی چشم پوشی کا کسی ذی ہوش کو یارا نہ تھا رت صلیب و دار کی اس شہر میں پھر آئی تھی میں نے ظلمت کے فسوں سے بھاگنا چاہا مگر میرے ...

    مزید پڑھیے

    کھڑکی میں ایک نار جو محو خیال ہے

    کھڑکی میں ایک نار جو محو خیال ہے شاید کسی کے پیار کو پانے کی چال ہے کمرے کی چیز چیز پہ ہے حسرتوں کی گرد آنگن میں اجلی دھوپ کا پھیلا جمال ہے الفاظ کے گہر تری خاطر پرو لیے یہ بھی تو تیرے حسن طلب کا کمال ہے اظہار عشق کرتا ہے اب راہ چلتے بھی اس عہد کا جواں بڑا روشن خیال ہے برسوں کے ...

    مزید پڑھیے

    کالی گھٹا میں چاند نے چہرہ چھپا لیا

    کالی گھٹا میں چاند نے چہرہ چھپا لیا پھولوں کی رت نے باغ سے خیمہ اٹھا لیا روٹھے ہیں وہ تو وصل کی رت خواب ہو گئی ہم نے جدائیوں کو گلے سے لگا لیا جشن طرب کی رات بڑی خوش گوار تھی تیرے بدن کی باس کو رت نے چرا لیا اک گلبدن ملی جو سراپا سپاس تھی آنکھوں کے راستے اسے دل میں بٹھا لیا ایسی ...

    مزید پڑھیے

    جی میں آتا ہے کہ چل کر جنگلوں میں جا رہیں

    جی میں آتا ہے کہ چل کر جنگلوں میں جا رہیں نت نئے موسم کے بھی ہم راہ وابستہ رہیں آتی جاتی رت کو دیکھیں اپنے چشم و گوش سے موسموں کے وار سہہ کر بھی یوں ہی زندہ رہیں پھول پھل پودے پرندے ہم دم و دم ساز ہوں ان میں بستے ہی بھلے لیکن نہ یوں تنہا رہیں شہر کے دیوار و در ہر اک سے ہیں نا ...

    مزید پڑھیے

تمام

2 نظم (Nazm)

    زمیں کی رنگت

    یہ رنگ تیرا یہ رنگ میرا حسین تر ہے حسیں رہے گا زمیں کی برکت یہ گندمی رنگ سنہری خوشیوں کی رت کی مانند جواں رہے گا اسے بنانا سنوارنا ہے تو اس کی خدمت کرو گے آخر کہ خدمتوں سے یہ رنگ اپنا زمیں کی مانند سدا رہے گا جواں رہے گا تجھے خبر ہے

    مزید پڑھیے

    واپسی

    خزاں کے جاتے ہی رت کا پانسہ پلٹ گیا ہے بہار کی خوشبوؤں سے گلشن کا ذرہ ذرہ مہک رہا ہے زمیں کی رنگت بدل گئی ہے کبھی تغیر جو موسموں کا نرالے گیتوں کے ساتھ آیا تو زندگی کی عزیز تر ساعتوں کے مالک بھڑک اٹھے تھے پلک پلک پر کئی کہے ان کہے فسانے مچل گئے تھے تو قند گفتار میں بھی تلخی رچی ...

    مزید پڑھیے