Shevan Bijnauri

شیون بجنوری

  • 1932

شیون بجنوری کے تمام مواد

6 غزل (Ghazal)

    غم سے بھیگے ہوئے نغمات کہاں سے لاؤں

    غم سے بھیگے ہوئے نغمات کہاں سے لاؤں درد میں ڈوبی ہوئی بات کہاں سے لاؤں جن میں یادوں کو تری جھونک دوں جلنے کے لیے وہ سلگتے ہوئے دن رات کہاں سے لاؤں جو پسند آئے تجھے خون جگر کے بدلے سونے چاندی کی وہ سوغات کہاں سے لاؤں دل بھی تشنہ ہے مری روح بھی تشنہ ہے مگر تیرے جلووں کی وہ برسات ...

    مزید پڑھیے

    ہوتی ہے لبوں پر خاموشی آنکھوں میں محبت ہوتی ہے

    ہوتی ہے لبوں پر خاموشی آنکھوں میں محبت ہوتی ہے جب ان سے نگاہیں ملتی ہیں اس وقت یہ حالت ہوتی ہے رینگنئ بزم دنیا میں ایسا بھی زمانہ آتا ہے وہ درد قضا بن جاتا ہے جس درد میں راحت ہوتی ہے یہ تجھ پہ فلک نے ظلم کیا وہ مجھ سے جدا میں ان سے جدا خوشیاں تو مناؤ اہل جہاں برباد محبت ہوتی ...

    مزید پڑھیے

    وہ رقص کرنے لگیں ہوائیں وہ بدلیوں کا پیام آیا

    وہ رقص کرنے لگیں ہوائیں وہ بدلیوں کا پیام آیا یہ کس نے بکھرائیں رخ پہ زلفیں یہ کون بالائے بام آیا مجھے خوشی ہے کہ آج میرا جنوں بھی یوں میرے کام آیا سمجھ کے دیوانۂ محبت تمہارے ہونٹوں پہ نام آیا مجھے صراحی سے کیا غرض ہے میرا نشہ اصل میں الگ ہے ادھر تمہاری نگاہ اٹھی ادھر سرور دوام ...

    مزید پڑھیے

    تری نگاہ نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا

    تری نگاہ نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا ہنسا کے پاس بلایا رلا کے چھوڑ دیا حسین جلووں میں گم ہو گئی نظر میری یہ کیا کیا کہ جو پردہ اٹھا کے چھوڑ دیا جنوں میں اب مجھے اپنی خبر نہ غیروں کی یہ غم نے کون سی منزل پہ لا کے چھوڑ دیا جو معرفت کے گلابی نشے سے ہو بھر پور وہ جام تو نے نظر سے پلا کے ...

    مزید پڑھیے

    موسم بھی خوش گوار زمانہ بھی راس ہے

    موسم بھی خوش گوار زمانہ بھی راس ہے لیکن ترے بغیر مرا جی اداس ہے اے حسن پر حجاب ذرا سامنے تو آ ان تشنہ لب نگاہوں کو جلوے کی آس ہے عرصہ ہوا ہے ترک محبت کئے ہوئے پھر بھی نہ جانے کیوں تیرے ملنے کی آس ہے کہتے ہیں کس کو عشق مجھے یہ خبر نہیں اک میٹھا میٹھا درد میرے دل کے پاس ہے یوں تو ...

    مزید پڑھیے

تمام