غم سے بھیگے ہوئے نغمات کہاں سے لاؤں
غم سے بھیگے ہوئے نغمات کہاں سے لاؤں درد میں ڈوبی ہوئی بات کہاں سے لاؤں جن میں یادوں کو تری جھونک دوں جلنے کے لیے وہ سلگتے ہوئے دن رات کہاں سے لاؤں جو پسند آئے تجھے خون جگر کے بدلے سونے چاندی کی وہ سوغات کہاں سے لاؤں دل بھی تشنہ ہے مری روح بھی تشنہ ہے مگر تیرے جلووں کی وہ برسات ...