کیا خبر تھی کوئی رسوائے جہاں ہو جائے گا
کیا خبر تھی کوئی رسوائے جہاں ہو جائے گا کچھ نہ کہنا بھی مرا حسن بیاں ہو جائے گا اپنے دیوانے کا تم جوش جنوں بڑھنے تو دو آستیں دامن گریباں دھجیاں ہو جائے گا عاشق جانباز ہیں ہم منہ نہ موڑیں گے کبھی تم کماں سے تیر چھوڑو امتحاں ہو جائے گا ٹوٹی پھوٹی قبر بھی کر دو برابر شوق سے یہ بھی ...