Sher Mohammad Khan Iman

شیر محمد خاں ایمان

شیر محمد خاں ایمان کی غزل

    دل کے آئینے میں نت جلوہ کناں رہتا ہے

    دل کے آئینے میں نت جلوہ کناں رہتا ہے ہم نے دیکھا ہے تو اے شوخ جہاں رہتا ہے کوئی دن گھر سے نہ نکلے ہے اگر وہ خورشید منتظر شام تلک ایک جہاں رہتا ہے جھاڑ دامن کے تئیں مار کے ٹھوکر نکلے کہیں روکے سے بھی وہ سرو رواں رہتا ہے گاہے ماہے اے مہ عید ادھر بھی تو گزر روز و شب بزم میں تیرا ہی ...

    مزید پڑھیے

    یوسف ہی زر خریدوں میں فیروز بخت تھا

    یوسف ہی زر خریدوں میں فیروز بخت تھا قیمت میں جس کی پھر وہی شاہی کا تخت تھا مجلس میں تیری کاوش مژگاں کے ہاتھ سے غنچہ نمط ہر ایک جگر لخت لخت تھا آنسو تو چیر کر صف مژگاں نکل گیا لڑکا تھا خورد سال پہ دل کا کرخت تھا تجھ پہ گداز دل ہے سراپا اے شمع رو جوں نخل موم باغ میں ہر اک درخت ...

    مزید پڑھیے

    پہنچا ہے آج قیس کا یاں سلسلہ مجھے

    پہنچا ہے آج قیس کا یاں سلسلہ مجھے جنگل کی راس کیوں نہ ہو آب و ہوا مجھے آنا اگر ترا نہیں ہوتا ہے میرے گھر دولت سرا میں اپنے ہی اک دن بلا مجھے وہ ہووے اور میں ہوں اور اک کنج عافیت اس سے زیادہ چاہیے پھر اور کیا مجھے پیدا کیا ہے جب سے کہ میں ربط عشق سے بیگانہ جانتا ہے ہر ایک آشنا ...

    مزید پڑھیے

    مہرباں پاتے نہیں تیرے تئیں یک آن ہم

    مہرباں پاتے نہیں تیرے تئیں یک آن ہم پھر بھلا دل کے نکالیں کس طرح ارمان ہم ہر قدم پر جس کے اعجاز مسیحائی فدا اس ادا اس ناز اس رفتار کے قربان ہم عمر بھر ساقی نہ چھوڑی مے کدہ کی بندگی ایک ہی پیمانے پر کرتے ہیں یہ پیمان ہم کوئی تو دعوت بتا دو اس طرح کی شیخ جی ایک شب تو اپنے گھر اس کو ...

    مزید پڑھیے

    کس روز الٰہی وہ مرا یار ملے گا

    کس روز الٰہی وہ مرا یار ملے گا ایسا بھی کبھی ہوگا کہ دل دار ملے گا جوں چاہیئے ووں دل کی نکالوں گا ہوس میں جس دن وہ مجھے کیف میں سرشار ملے گا اک عمر سے پھرتا ہوں لیے دل کو بغل میں اس جنس کا بھی کوئی خریدار ملے گا مل جائے گا پھر آپ سے یہ زخم جگر بھی جس روز کہ مجھ سے وہ ستم گار ملے ...

    مزید پڑھیے

    قصہ تو زلف یار کا طول و طویل ہے

    قصہ تو زلف یار کا طول و طویل ہے کیوں کر ادا ہو عمر کا رشتہ قلیل ہے گنجائش دو شاہ نہیں ایک ملک میں وحدانیت کے حق کی یہی بس دلیل ہے مشہد پہ دل کے دیدۂ گریاں پکار دے پیاسا نہ جا بنام شہیداں سبیل ہے نظریں لڑانے میں وہ تغافل ہے خوش نما جس طرح سے پتنگوں کے پنجوں میں ڈھیل ہے ایمانؔ کیا ...

    مزید پڑھیے

    دیت اس قاتل بے رحم سے کیا لیجئے گا

    دیت اس قاتل بے رحم سے کیا لیجئے گا اپنی ہی آنکھوں سے اب خون بہا لیجئے گا پھر نہیں ہونے کی تقصیر تو ایسی ہرگز اب کسی طرح میری جان بچا لیجئے گا اس قدر سنگ دلی تم کو نہیں ہے لازم کسی مظلوم کی گاہے تو دعا لیجئے گا لخت دل خاک میں دیتا ہے کوئی بھی رہنے گر پڑے اشک تو آنکھوں سے اٹھا ...

    مزید پڑھیے

    عالم میں حسن تیرا مشہور جانتے ہیں

    عالم میں حسن تیرا مشہور جانتے ہیں ارض و سما کا اس کو ہم نور جانتے ہیں ہرچند دو جہاں سے اب ہم گزر گئے ہیں تس پر بھی دل کے گھر کو ہم دور جانتے ہیں جس میں تری رضا ہو وہ ہی قبول کرنا اپنا تو ہم یہی کچھ مقدور جانتے ہیں سو رنگ جلوہ گر ہیں گرچہ بتان عالم ہم ایک تجھی کو اپنا منظور جانتے ...

    مزید پڑھیے