Sher Mohammad Khan Iman

شیر محمد خاں ایمان

شیر محمد خاں ایمان کے تمام مواد

8 غزل (Ghazal)

    دل کے آئینے میں نت جلوہ کناں رہتا ہے

    دل کے آئینے میں نت جلوہ کناں رہتا ہے ہم نے دیکھا ہے تو اے شوخ جہاں رہتا ہے کوئی دن گھر سے نہ نکلے ہے اگر وہ خورشید منتظر شام تلک ایک جہاں رہتا ہے جھاڑ دامن کے تئیں مار کے ٹھوکر نکلے کہیں روکے سے بھی وہ سرو رواں رہتا ہے گاہے ماہے اے مہ عید ادھر بھی تو گزر روز و شب بزم میں تیرا ہی ...

    مزید پڑھیے

    یوسف ہی زر خریدوں میں فیروز بخت تھا

    یوسف ہی زر خریدوں میں فیروز بخت تھا قیمت میں جس کی پھر وہی شاہی کا تخت تھا مجلس میں تیری کاوش مژگاں کے ہاتھ سے غنچہ نمط ہر ایک جگر لخت لخت تھا آنسو تو چیر کر صف مژگاں نکل گیا لڑکا تھا خورد سال پہ دل کا کرخت تھا تجھ پہ گداز دل ہے سراپا اے شمع رو جوں نخل موم باغ میں ہر اک درخت ...

    مزید پڑھیے

    پہنچا ہے آج قیس کا یاں سلسلہ مجھے

    پہنچا ہے آج قیس کا یاں سلسلہ مجھے جنگل کی راس کیوں نہ ہو آب و ہوا مجھے آنا اگر ترا نہیں ہوتا ہے میرے گھر دولت سرا میں اپنے ہی اک دن بلا مجھے وہ ہووے اور میں ہوں اور اک کنج عافیت اس سے زیادہ چاہیے پھر اور کیا مجھے پیدا کیا ہے جب سے کہ میں ربط عشق سے بیگانہ جانتا ہے ہر ایک آشنا ...

    مزید پڑھیے

    مہرباں پاتے نہیں تیرے تئیں یک آن ہم

    مہرباں پاتے نہیں تیرے تئیں یک آن ہم پھر بھلا دل کے نکالیں کس طرح ارمان ہم ہر قدم پر جس کے اعجاز مسیحائی فدا اس ادا اس ناز اس رفتار کے قربان ہم عمر بھر ساقی نہ چھوڑی مے کدہ کی بندگی ایک ہی پیمانے پر کرتے ہیں یہ پیمان ہم کوئی تو دعوت بتا دو اس طرح کی شیخ جی ایک شب تو اپنے گھر اس کو ...

    مزید پڑھیے

    کس روز الٰہی وہ مرا یار ملے گا

    کس روز الٰہی وہ مرا یار ملے گا ایسا بھی کبھی ہوگا کہ دل دار ملے گا جوں چاہیئے ووں دل کی نکالوں گا ہوس میں جس دن وہ مجھے کیف میں سرشار ملے گا اک عمر سے پھرتا ہوں لیے دل کو بغل میں اس جنس کا بھی کوئی خریدار ملے گا مل جائے گا پھر آپ سے یہ زخم جگر بھی جس روز کہ مجھ سے وہ ستم گار ملے ...

    مزید پڑھیے

تمام