Sheikh Bimar Ali Bakhsh

شیخ علی بخش بیمار

شیخ علی بخش بیمار کی غزل

    رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گے

    رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گے اب اور ہی معشوق سے یارانہ کریں گے باندھیں گے کسی اور ہی جوڑے کا تصور سر دھیان میں اس زلف کے مارا نہ کریں گے امکان سے خارج ہے کہ ہوں تجھ سے مخاطب ہم نام کو بھی تیرے پکارا نہ کریں گے یک بار کبھی بھولے سے آ جائیں تو آ جائیں لیکن گزر اس گھر میں ...

    مزید پڑھیے

    دخل ہر دل میں ترا مثل سویدا ہو گیا

    دخل ہر دل میں ترا مثل سویدا ہو گیا الاماں اے زلف عالمگیر سودا ہو گیا گو پڑا رہتا ہوں آب اشک میں مثل حباب سوزش دل سے مگر سب جسم چھالا ہو گیا اے شہ خوباں تصور سے ترے رخسار کے چشم کا پردا بعینہ لعل پردا ہو گیا فرق رندان و ملائک اب بہت دشوار ہے مے کدہ اس کے قدم سے روشن ایسا ہو ...

    مزید پڑھیے

    بتو یہ شیشۂ دل توڑ دو خدا کے لیے

    بتو یہ شیشۂ دل توڑ دو خدا کے لیے جو سنگ دل ہو تو کیا چاہیئے جفا کے لیے سوال یار سے کیسا کمال الفت کا کہ ابتدا بھی تو ہے شرط انتہا کے لیے خدا سے تجھ کو صنم مانگتے تو مل جاتا مگر ادب نے اجازت نہ دی دعا کے لیے عذاب آتش فرقت سے کانپتا تھا دل ہزار شکر جہنم ملا سزا کے لیے نہ دل لگا کے ...

    مزید پڑھیے

    کون برہم ہے زلف جاناں سے

    کون برہم ہے زلف جاناں سے تنگ ہوں خاطر پریشاں سے مژدہ اے خار دشت دست جنوں گزرے ہم دامن و گریباں سے دانت کس کا ہے جام پر ساقی مے ٹپکتی ہے ابر نیساں سے گر یہی رنگ ہے زمانے کا باز آیا میں کفر و ایماں سے بیٹھ جاتا ہے آ کے میرے پاس جو نکلتا ہے بزم جاناں سے حور عاشق نواز ہے کوئی پہلے ...

    مزید پڑھیے

    کون دنیا سے بادہ خوار اٹھا

    کون دنیا سے بادہ خوار اٹھا چشم تر ابر نو بہار اٹھا کھا کے غش گر پڑے کھڑے بیٹھے بیٹھ کر اس ادا سے یار اٹھا آتش عشق دیکھ کر مالک الاماں الاماں پکار اٹھا درد تعظیم مرگ کو دل میں شب فرقت ہزار بار اٹھا جیتے جی دور آسمانی میں نہ زمیں سے یہ خاکسار اٹھا ابر رحمت نے دے دیا چھینٹا بعد ...

    مزید پڑھیے

    دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کر

    دم نہ نکلا یار کی نامہربانی دیکھ کر سخت حیراں ہوں میں اپنی سخت جانی دیکھ کر شام سے تا صبح فرقت صبح سے تا شام ہجر ہم چلے کیا کیا نہ لطف زندگانی دیکھ کر یوں تو لاکھوں غمزدہ ہوں گے مگر اے آسماں جب تجھے جانوں کہ لا دے میرا ثانی دیکھ کر اب تپ فرقت سے یہ کچھ ضعف طاری ہے کہ آہ دنگ رہ ...

    مزید پڑھیے

    نہ کہو اعتبار ہے کس کا

    نہ کہو اعتبار ہے کس کا بے وفائی شعار ہے کس کا اے اجل شام ہجر آ پہنچی اب تجھے انتظار ہے کس کا عشق سے میں خبر نہیں یا رب داغ دل یادگار ہے کس کا دل جو ظالم نہیں تری جاگیر تو یہ اجڑا دیار ہے کس کا محتسب پوچھ مے پرستوں سے نام آمرزگار ہے کس کا بزم میں وہ نہیں اٹھاتے آنکھ دیکھنا ...

    مزید پڑھیے

    کیا کیا نہ تیرے صدمہ سے باد خزاں گرا

    کیا کیا نہ تیرے صدمے سے باد خزاں گرا گل برگ سرو فاختہ کا آشیاں گرا لکھنے لگی قضا جو ہماری فتادگی سو بار ہاتھ سے قلم دو زباں گرا جب پہنچے ہم کنارۂ مقصود کے قریب تب ناخدا جہاں سے اٹھا بادباں گرا موباف سرخ چوٹی سے کیا ان کی کھل پڑا ایک صاعقہ سا دل پہ مرے ناگہاں گرا تا آسماں پہنچ ...

    مزید پڑھیے

    فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہے

    فصل گل ساتھ لیے باغ میں کیا آتی ہے بلبل نغمہ سرا رو رو بقضا آتی ہے دل دھڑکتا ہے یہ کہتے ہوئے اس محفل میں یاں کسی کو خفقاں کی بھی دوا آتی ہے آج وہ شوخ ہے اور کثرت آرائش ہے دیکھ کس واسطے پسنے کو حنا آتی ہے کیا کھلے باغ میں وہ چشم حجاب آلودہ آنکھ اٹھاتے ہوئے نرگس کو حیا آتی ہے جاں ...

    مزید پڑھیے