رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گے
رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گے اب اور ہی معشوق سے یارانہ کریں گے باندھیں گے کسی اور ہی جوڑے کا تصور سر دھیان میں اس زلف کے مارا نہ کریں گے امکان سے خارج ہے کہ ہوں تجھ سے مخاطب ہم نام کو بھی تیرے پکارا نہ کریں گے یک بار کبھی بھولے سے آ جائیں تو آ جائیں لیکن گزر اس گھر میں ...