Sheikh Bimar Ali Bakhsh

شیخ علی بخش بیمار

شیخ علی بخش بیمار کے تمام مواد

9 غزل (Ghazal)

    رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گے

    رنجش تری ہر دم کی گوارا نہ کریں گے اب اور ہی معشوق سے یارانہ کریں گے باندھیں گے کسی اور ہی جوڑے کا تصور سر دھیان میں اس زلف کے مارا نہ کریں گے امکان سے خارج ہے کہ ہوں تجھ سے مخاطب ہم نام کو بھی تیرے پکارا نہ کریں گے یک بار کبھی بھولے سے آ جائیں تو آ جائیں لیکن گزر اس گھر میں ...

    مزید پڑھیے

    دخل ہر دل میں ترا مثل سویدا ہو گیا

    دخل ہر دل میں ترا مثل سویدا ہو گیا الاماں اے زلف عالمگیر سودا ہو گیا گو پڑا رہتا ہوں آب اشک میں مثل حباب سوزش دل سے مگر سب جسم چھالا ہو گیا اے شہ خوباں تصور سے ترے رخسار کے چشم کا پردا بعینہ لعل پردا ہو گیا فرق رندان و ملائک اب بہت دشوار ہے مے کدہ اس کے قدم سے روشن ایسا ہو ...

    مزید پڑھیے

    بتو یہ شیشۂ دل توڑ دو خدا کے لیے

    بتو یہ شیشۂ دل توڑ دو خدا کے لیے جو سنگ دل ہو تو کیا چاہیئے جفا کے لیے سوال یار سے کیسا کمال الفت کا کہ ابتدا بھی تو ہے شرط انتہا کے لیے خدا سے تجھ کو صنم مانگتے تو مل جاتا مگر ادب نے اجازت نہ دی دعا کے لیے عذاب آتش فرقت سے کانپتا تھا دل ہزار شکر جہنم ملا سزا کے لیے نہ دل لگا کے ...

    مزید پڑھیے

    کون برہم ہے زلف جاناں سے

    کون برہم ہے زلف جاناں سے تنگ ہوں خاطر پریشاں سے مژدہ اے خار دشت دست جنوں گزرے ہم دامن و گریباں سے دانت کس کا ہے جام پر ساقی مے ٹپکتی ہے ابر نیساں سے گر یہی رنگ ہے زمانے کا باز آیا میں کفر و ایماں سے بیٹھ جاتا ہے آ کے میرے پاس جو نکلتا ہے بزم جاناں سے حور عاشق نواز ہے کوئی پہلے ...

    مزید پڑھیے

    کون دنیا سے بادہ خوار اٹھا

    کون دنیا سے بادہ خوار اٹھا چشم تر ابر نو بہار اٹھا کھا کے غش گر پڑے کھڑے بیٹھے بیٹھ کر اس ادا سے یار اٹھا آتش عشق دیکھ کر مالک الاماں الاماں پکار اٹھا درد تعظیم مرگ کو دل میں شب فرقت ہزار بار اٹھا جیتے جی دور آسمانی میں نہ زمیں سے یہ خاکسار اٹھا ابر رحمت نے دے دیا چھینٹا بعد ...

    مزید پڑھیے

تمام