Shehzad Raza Lams

شہزاد رضا لمس

شہزاد رضا لمس کی غزل

    جہاں پہ بسنا ہے مجھ کو اب وہ جہان ایجاد ہو رہا ہے

    جہاں پہ بسنا ہے مجھ کو اب وہ جہان ایجاد ہو رہا ہے نئی زمیں اور اک نیا آسمان ایجاد ہو رہا ہے کسی گلی میں سرائے فانی کی تم کو اب ہم نہیں ملیں گے وہ قریۂ جاوداں میں اپنا مکان ایجاد ہو رہا ہے وہ جلد پہنچے گا تم تلک تم سنانی اپنی اسے سنانا بس ایک لمحہ رکو مرا ترجمان ایجاد ہو رہا ...

    مزید پڑھیے

    مجھ کو زندہ رہنے کا اک جذبہ آ کے مار گیا

    مجھ کو زندہ رہنے کا اک جذبہ آ کے مار گیا میں اپنی سانسوں سے آخر لڑتے لڑتے ہار گیا اپنی نیندیں اپنی راتیں اپنی آنکھیں اپنے خواب تم کو جیتنے کی خاطر میں اپنا سب کچھ ہار گیا جیسی چیزیں مجھ میں تھیں سب ویسی دنیا میں بھی تھیں اپنے اندر سے میں باہر آخر کو بے کار گیا عشق کے اس سودے میں ...

    مزید پڑھیے

    مسئلہ ہوں میں سدا سے کم نگاہی کے لئے

    مسئلہ ہوں میں سدا سے کم نگاہی کے لئے کون اٹھے گا بھلا میری گواہی کے لئے لوٹ آیا پھر سے وہ طوفان صحرا کی طرف شہر میں باقی نہ تھا کچھ بھی تباہی کے لئے آج بھی میں تیری آنکھوں کے جزیروں میں پناہ ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اپنی بے پناہی کے لئے دل کے دریا میں مری یادوں کی گہرائی تلک ڈوب کے ...

    مزید پڑھیے

    یوں اپنے دل کے بوجھ کو کچھ کم کیا گیا

    یوں اپنے دل کے بوجھ کو کچھ کم کیا گیا عہد وصال و ہجر پہ ماتم کیا گیا آنکھوں سے خوں بہانا پڑا رات دن مجھے تب جا کے تیرے غم کو کہیں غم کیا گیا کیا کم تھا پہلے درہم و برہم اے آسماں جو اور مجھ کو درہم و برہم کیا گیا چہرا تمہارا پھول کیا اپنے عشق سے اور اس پہ پھر پسینے کو شبنم کیا ...

    مزید پڑھیے

    آسماں تجھ سے کنارا کہیں کرنا ہے مجھے

    آسماں تجھ سے کنارا کہیں کرنا ہے مجھے تھک گیا اڑتے ہوئے آج اترنا ہے مجھے اپنے زخموں کی ہوا دی ہے کسی ساحل کو اپنے اشکوں سے سمندر کوئی بھرنا ہے مجھے چاند کی ناؤ ہوئی رات کے سیلاب میں غرق پھر سے سورج کی کرن بن کے ابھرنا ہے مجھے یاد آتا ہے بکھر جانا مری ہستی کا اور اس زلف کا کہنا کہ ...

    مزید پڑھیے

    چاندنی اپنے ساتھ لائی ہے

    چاندنی اپنے ساتھ لائی ہے تیری صورت میں رات آئی ہے خود میں اب خود کو میں نہیں ملتا اس قدر مجھ میں تو سمائی ہے ایک دن جسم چھوڑ جائے گی روح اپنی نہیں پرائی ہے نہر میں صاف کچھ بھی دکھتا نہیں آج پانی پہ کتنی کائی ہے تجھ کو خط بھی لکھے ہیں خون سے اور تیری تصویر بھی بنائی ہے سر کھلے ...

    مزید پڑھیے

    اس قدر خود پہ ہم جفا نہ کریں

    اس قدر خود پہ ہم جفا نہ کریں جسم کو جان سے جدا نہ کریں اشک از چشم من جدا نشود آپ ایسی کبھی دعا نہ کریں آؤ عہد وفا کریں دونوں اور عہد وفا وفا نہ کریں پھول بن کر مہکنے لگتے ہیں آپ زخموں کو یوں چھوا نہ کریں دور مانا زمین ہے اس سے آسماں سے مگر کہا نہ کریں اور بھی کچھ مزید دہکے گی آگ ...

    مزید پڑھیے

    دیکھو فراق یار میں جاں کھو رہا ہے وہ

    دیکھو فراق یار میں جاں کھو رہا ہے وہ شہزادؔ کو سنبھالو بہت رو رہا ہے وہ آئے نئے جو زخم تو یہ روح نے کہا کچھ دیر بیٹھ جاؤ ابھی سو رہا ہے وہ صحرا کی خاک حق میں مرے کہہ رہی ہے یہ جو ہونا چاہتا تھا وہی ہو رہا ہے وہ پہلے بھی خالی ہاتھ تھا ہے اب بھی خالی ہاتھ اور کب سے بار سود و زیاں ڈھو ...

    مزید پڑھیے

    آخر تمہارے عشق میں برباد ہو سکے

    آخر تمہارے عشق میں برباد ہو سکے گزرے کہاں کہاں سے تو شہزاد ہو سکے بستی کو اپنی چھوڑ کے آیا ہے اک فقیر خواہش کہ تیرے جسم میں آباد ہو سکے مدت سے اپنی یاد بھی آتی نہیں ہمیں تم جس کو یاد ہو اسے کیا یاد ہو سکے ہونٹوں پہ ہونٹ رکھ دے کہ میں راکھ ہو سکوں میری نئے سرے سے پھر ایجاد ہو ...

    مزید پڑھیے

    یہ کائنات ترا معجزہ لگے ہے مجھے

    یہ کائنات ترا معجزہ لگے ہے مجھے خدا نہیں ہے مگر تو خدا لگے ہے مجھے نہ اپنے ہاتھ اٹھاؤ نہ التماس کرو کبھی کسی کی بتاؤ دعا لگے ہے مجھے کسے خبر ہے کہ کب چلتی سانس رک جائے یہ زندگی بھی فریب قضا لگے ہے مجھے ترے وصال نے بے چین کر دیا تھا بہت ترا فراق ہی دل کی دوا لگے ہے مجھے ہر ایک چیز ...

    مزید پڑھیے