رقابتوں کی طرح سے ہم نے محبتیں بے مثال کی ہیں
رقابتوں کی طرح سے ہم نے محبتیں بے مثال کی ہیں مگر خموش اب جو ہو گئے ہیں عنایتیں ماہ و سال کی ہیں کہاں سے دنیا کو آ گئے ہیں یہ طور اس کے طریق اس کے مظاہرہ سب گریز کا ہے علامتیں سب وصال کی ہیں نظر اٹھاؤ تو ہر طرف ہے بہشت حسن و جمال لیکن کہاں وہ انداز اس کا لہجہ شباہتیں خد و خال کی ...