Shees Mohammad Ismail Azmi

شیث محمد اسماعیل اعظمی

شیث محمد اسماعیل اعظمی کی غزل

    رقابتوں کی طرح سے ہم نے محبتیں بے مثال کی ہیں

    رقابتوں کی طرح سے ہم نے محبتیں بے مثال کی ہیں مگر خموش اب جو ہو گئے ہیں عنایتیں ماہ و سال کی ہیں کہاں سے دنیا کو آ گئے ہیں یہ طور اس کے طریق اس کے مظاہرہ سب گریز کا ہے علامتیں سب وصال کی ہیں نظر اٹھاؤ تو ہر طرف ہے بہشت حسن و جمال لیکن کہاں وہ انداز اس کا لہجہ شباہتیں خد و خال کی ...

    مزید پڑھیے

    عجیب عادت ہے بے سبب انتظار کرنا

    عجیب عادت ہے بے سبب انتظار کرنا شب الم میں وصال کے دن شمار کرنا نہیں ہے آساں عداوتوں میں اسیر رہنا روش زمانے سے مختلف اختیار کرنا نہ بے نیاز قیود آداب عشق رہنا نہ اپنے اطراف مصلحت کا حصار کرنا نہ اہل دانش کے دام و دانہ کا صید ہونا نہ شہر والوں کے لطف کا اعتبار کرنا جو محفلوں ...

    مزید پڑھیے

    شرار جاں سے گزر گردش لہو میں آ

    شرار جاں سے گزر گردش لہو میں آ اب اے نگار تمنا مرے سبو میں آ مجھے پکار مری بازگشت کی مانند مرے خمیر سے اٹھ میری گفتگو میں آ ترے لیے تو لباس غزل ہے نا کافی قرار جاں تو کسی اور رنگ و بو میں آ میں تشنہ لب ہوں سر دشت آگہی کب سے سبیل تو ہے تو صحرائے جستجو میں آ تجھے تو حلقۂ دانشوراں ...

    مزید پڑھیے

    اب تو جس روز سے روٹھی ہے محبت اس کی

    اب تو جس روز سے روٹھی ہے محبت اس کی بڑھ گئی اور بھی پہلے سے ضرورت اس کی لوح ہر زخم پہ تحریر ہے اس کا مضمون نقش ہے ہر ورق دل پہ عبارت اس کی جسم تو میرا تھا دل اس کا تھا جاں اس کی تھی میری جاگیر تھی چلتی تھی حکومت اس کی شور فریاد سنائیں تو سنائیں کس کو حشر اس کا ہے خدا اس کا قیامت اس ...

    مزید پڑھیے