رحمان فارس کے تمام مواد

15 غزل (Ghazal)

    سکوت شام میں گونجی صدا اداسی کی

    سکوت شام میں گونجی صدا اداسی کی کہ ہے مزید اداسی دوا اداسی کی بہت شریر تھا میں اور ہنستا پھرتا تھا پھر اک فقیر نے دے دی دعا اداسی کی امور دل میں کسی تیسرے کا دخل نہیں یہاں فقط تری چلتی ہے یا اداسی کی چراغ دل کو ذرا احتیاط سے رکھنا کہ آج رات چلے گی ہوا اداسی کی وہ امتزاج تھا ...

    مزید پڑھیے

    وداع یار کا لمحہ ٹھہر گیا مجھ میں

    وداع یار کا لمحہ ٹھہر گیا مجھ میں میں خود تو زندہ رہا وقت مر گیا مجھ میں سکوت شام میں چیخیں سنائی دیتی ہیں تو جاتے جاتے عجب شور بھر گیا مجھ میں وہ پہلے صرف مری آنکھ میں سمایا تھا پھر ایک روز رگوں تک اتر گیا مجھ میں کچھ ایسے دھیان میں چہرہ ترا طلوع ہوا غروب شام کا منظر نکھر گیا ...

    مزید پڑھیے

    رات آ بیٹھی ہے پہلو میں ستارو تخلیہ

    رات آ بیٹھی ہے پہلو میں ستارو تخلیہ اب ہمیں درکار ہے خلوت سو یارو تخلیہ آنکھ وا ہے اور حسن یار ہے پیش نظر شش جہت کے باقی ماندہ سب نظارو تخلیہ دیکھنے والا تھا منظر جب کہا درویش نے کج کلاہو بادشاہو تاجدارو تخلیہ غم سے اب ہوگی براہ راست میری گفتگو دوستو تیمار دارو غم گسارو ...

    مزید پڑھیے

    میں کار آمد ہوں یا بے کار ہوں میں

    میں کار آمد ہوں یا بے کار ہوں میں مگر اے یار تیرا یار ہوں میں جو دیکھا ہے کسی کو مت بتانا علاقے بھر میں عزت دار ہوں میں خود اپنی ذات کے سرمائے میں بھی صفر فیصد کا حصے دار ہوں میں اور اب کیوں بین کرتے آ گئے ہوں کہا تھا نا بہت بیمار ہوں میں مری تو ساری دنیا بس تمہی ہو غلط کیا ہے جو ...

    مزید پڑھیے

    صدائیں دیتے ہوئے اور خاک اڑاتے ہوئے

    صدائیں دیتے ہوئے اور خاک اڑاتے ہوئے میں اپنے آپ سے گزرا ہوں تجھ تک آتے ہوئے پھر اس کے بعد زمانے نے مجھ کو روند دیا میں گر پڑا تھا کسی اور کو اٹھاتے ہوئے کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے پھر اس کے بعد عطا ہو گئی مجھے تاثیر میں رو پڑا تھا کسی کو ...

    مزید پڑھیے

تمام

8 نظم (Nazm)

    جاگتی آنکھوں کا خواب

    تمہاری یاد کی خوشبو لگائی تھی میں نے تمام رات مرے جسم و جاں مہکتے رہے سرور ہجر کے موسم میں بھی نہ ماند پڑا حواس ضبط کے عالم میں بھی بہکتے رہے دیار خواب میں کچھ طائران‌ خوش آواز تمہارے آنے کی امید میں چہکتے رہے نواح دل میں کئی روشنی بھرے سائے وفور شوق سے گاتے رہے لہکتے ...

    مزید پڑھیے

    عورت مارچ: تصویر کا دوسرا رخ

    سنو، بنت حوا! میں آدم کا بیٹا ہوں آؤ تسلی سے نمٹائیں جھگڑا یہ حوا کی عزت کا حوا بنا کر دکھایا گیا ہے مجھے تم سے ناحق لڑایا گیا ہے میں آدم کا بیٹا ہوں اور جانتا ہوں کہ مرد اور عورت ہی فطرت کی گاڑی کے پہیے ہیں دو اور دونوں ہی لازم ہیں دونوں ضروری نہ ہو ایک بھی تو کہانی ادھوری مجھے یہ ...

    مزید پڑھیے

    دلیپ کمار

    ارے ہیرو! اداکاری نہ کر چل اٹھ کہ لاکھوں دل تری آنکھوں سے دھڑکن لینے آئے ہیں چلو مانا تری آنکھیں کچھ ایسی تھیں کہ اس بے کار سیارے پہ ان کا دیر تک رہنا نہ بنتا تھا مگر پیارے! تری آنکھوں کی رخصت روشنی کی ہار ہی تو ہے تو کیوں خاموش ہے کچھ کہہ کہ تیری بے کراں آواز میں تو لاکھوں صدیوں کی ...

    مزید پڑھیے

    زیادہ پاس مت آنا

    زیادہ پاس مت آنا میں وہ تہہ خانہ ہوں جس میں شکستہ خواہشوں کے ان گنت آسیب بستے ہیں جو آدھی شب تو روتے ہیں پھر آدھی رات ہنستے ہیں مری تاریکیوں میں گمشدہ صدیوں کے گرد آلود نا آسودہ خوابوں کے کئی عفریت بستے ہیں مری خوشیوں پہ روتے ہیں مرے اشکوں پہ ہنستے ہیں مرے ویران دل میں رینگتی ہیں ...

    مزید پڑھیے

    سیلفی

    ہجر کے بے صدا جزیرے پر کنج تنہائی میں کوئی لڑکی خال و خد پر لگا کے آس کا رنگ چشم و لب پر سجا کے دل کی امنگ آنکھوں آنکھوں میں مسکراتی ہے شام کی سرمئی اداسی میں اپنی تصویر خود بناتی ہے ادھ کھلے ہونٹ نیم وا آنکھیں بے نوا ہونٹ بے صدا آنکھیں ایسی خاموشی ایسی تنہائی خود تماشا ہے خود ...

    مزید پڑھیے

تمام