Rehan Alvi

ریحان علوی

ریحان علوی کی نظم

    تم اندھیاروں کی بات کرو

    تم اندھیاروں کی بات کرو ہم دیپ جلاتے جائیں گے تم تعبیریں تسخیر کرو ہم خواب جگاتے جائیں گے تم تشنہ لبی کو عام کرو ہم پیاس بجھاتے جائیں گے تم مایوسی کی شام کرو ہم آس بڑھاتے جائیں گے تم زنجیریں نیلام کرو ہم ہار بناتے جائیں گے بارود کے بدلے پھولوں کے انبار لگاتے جائیں گے تم ...

    مزید پڑھیے

    حسین دنیا اجڑ گئی تو

    حسین دنیا اجڑ گئی تو اگر کہیں یہ بگڑ گئی تو گماں سے آگے نکل گئی تو گماں سے آگے گمان کر لو اٹھاؤ پردہ اور دیکھ لو خود زمیں فروشی کے روپ کتنے نقاب پوشوں کی بھیڑ میں سب ہمارے کل کے یہ سوداگر ہیں ان ہی کی حرص و ہوس کے باعث ہماری دنیا اجڑ رہی ہے گرم ہواؤں میں گھر رہی ہے بدلتے موسم کا ...

    مزید پڑھیے