تم اندھیاروں کی بات کرو
تم اندھیاروں کی بات کرو ہم دیپ جلاتے جائیں گے تم تعبیریں تسخیر کرو ہم خواب جگاتے جائیں گے تم تشنہ لبی کو عام کرو ہم پیاس بجھاتے جائیں گے تم مایوسی کی شام کرو ہم آس بڑھاتے جائیں گے تم زنجیریں نیلام کرو ہم ہار بناتے جائیں گے بارود کے بدلے پھولوں کے انبار لگاتے جائیں گے تم ...