Qamar Hashmi

قمر ہاشمی

قمر ہاشمی کی نظم

    ڈرائنگ روم

    دودھیا رنگ کے قمقمے دودھیا روشنی جامنی رنگ شیشوں پہ یہ روشنی کا دھواں ذہن کی دھیمی دھیمی سلگتی ہوئی آگ کا امتحاں کچھ گرے رنگ کے سوٹ کچھ چمپئی ساریاں دست نازک میں دست صبا ادھ کھلی خواب آلود آنکھوں میں افسانے نا خواستہ گفتگو ہم نشینی سے انگڑائی کے ساتھ پہلو تہی جذب کرتی پسینے کو ...

    مزید پڑھیے

    طلب ہے دریوزہ گر

    میں اپنی روح عذاب گر سے یہ کہہ رہا تھا کہ روح کی پیاس اور بدن کی طلب میں ایک ربط باہمی ہے نہ روح سرشار ہے نہ تابندگی تن ہے یہ ریزہ ریزہ جو رزق پہنچا ہے تار و پو کا سرشتۂ نا تواں ہے عرض ہنر کے دامان بے رفو کا یہ لقمۂ خشک و حلق فرسا کبھی تو لذت شعار کام و دہن بھی ہوتا فصیل تن ماورائے پس ...

    مزید پڑھیے