Mohammad Haneef Rame

محمد حنیف رامے

محمد حنیف رامے کی نظم

    من و تو

    کتنی اونچی اٹھا دی ہے ہجر کی سنگین دیوار تو نے لمبی بہت لمبی مشرقین سے مغربین تک کوئی روزن ہے نہ دروازہ اس میں لگتا ہے اپنے معجز نما ہاتھوں سے بنائی ہے خود تو نے بالکل تیری طرح اور ہے نہ چھور اس کا دعویٰ تو کرتا ہے کہ نزدیک تر ہے تو میری شہ رگ سے بھی اور پھر جدائی کے یہ سارے ...

    مزید پڑھیے

    گونگی التجا

    رب العزت وہ زمین جسے تو نے بنی آدم کے لیے جنت بنایا تھا اور امن کے گہوارے کا نام دیا تھا جہاں ہماری آزمائش کے لیے شجر ممنوعہ کے ساتھ ساتھ ہماری ربوبیت کے لیے تو نے شجر حیات بھی اگایا تھا ہماری وہ زمین پانی ہوا اور خشکی کی مخلوق کا مشترکہ گھر تھی اس پیاری زمین پر آباد ساری مخلوق ...

    مزید پڑھیے

    گھاس میں چھپے سانپ

    میں گھاس ہوں ہری بھری گھاس پانی ملے تو ہری بھری نہ ملے تو گھاس پھوس تھوڑی نرگسیت کی اجازت دیجیے ارے جب اگتی ہوں تو کیا جوبن ہوتا ہے مجھ پر نئی نئی گھاس پر سورج کی کرنیں پڑتی ہیں تو اندھوں کی آنکھوں میں بھی طراوت اتر آتی ہے جناب اور ہائے وہ تازہ تازہ گھاس کی خوشبو پر افسوس جب دیر تک ...

    مزید پڑھیے

    دکھتی ہڈیوں کی وکالت

    دکھتی ہڈیاں کہتی ہے آرام کرو اب دل کہتا ہے ابھی نہیں ابھی تو کام پڑا ہے سب مگر ایک اور ہی بولی بولتا ہے دماغ پہلے کون سا تیر مار لیا تھا آپ نے جو اب پھر چلے ہیں جوہر دکھانے سرونٹے کا ڈان کھوتے اور سرشار کا خدائی فوجداری بھی تڑپتے ہوں گے قبر میں پڑے پڑے آپ کی بے قراریاں دیکھ کر دنیا ...

    مزید پڑھیے

    زندہ در گور

    میں خدا کی قبر ہوں خدا میرے اندر دفن ہے بھئی، میں نے اپنے ہاتھوں سے دفن کیا ہے اسے! فرق یہ ہے کہ دفن ہونے کے باوجود زندہ ہے وہ زندہ در گور اوپر سے ملبہ ہٹانے کی دیر ہے اندر سے خدا نکل آئے گا ہاں ہاں میرے اندر سے نکل آئے گا یہ جو منوں مٹی ڈال رکھی ہے میں نے اس پر عقیدوں اور نظریوں ...

    مزید پڑھیے

    شیخ صلاح الدین

    یہ سوجھی ہے کیا آپ کو شیخ صاحب جو چپ سادھ لی آپ نے شیخ صاحب لپیٹا تھا ناصر جب جب منہ سوچا میں نے محبت ہی کمزور تھی آپ کی جو نہیں روک پائی اسے شیخ صاحب سجیلا تھا گل آپ کے باغ کا سب سے وہ شیخ صاحب گیا وہ گئی بزم یاراں کی رونق گئی اس کی خوشبو ترنم سے خالی ہوئی شاعری گفتگو میں مزہ نہ رہا ...

    مزید پڑھیے

    اے روح زندگی

    اے روح زندگی اے خدا کی قوت تخلیق کون سی نئی دنیائیں آباد کرنے میں مصروف ہو گئی ہے تو اس ہماری دنیا کی جانب بھی پلٹ کر دیکھ جو لمحہ بہ لمحہ ویران سے ویران تر ہوتی جا رہی ہے اے روح زندگی اے اولین روشنی کی ابدی لو موت کے اندھیروں کو چیرتی ہوئی آ دیکھ میں بازو کھولے کھڑا ہوں آ اور ...

    مزید پڑھیے

    والسلام

    پیارے بیٹے ابراہیمؔ تمہیں شکایت ہے کہ ایک عرصے سے میں نے کچھ لکھا لکھا یا نہیں اقبالؔ نے کہا تھا نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں ہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں پھر فیضؔ نے کہا تھا بول کہ لب آزاد ہیں تیرے بہت اکساتا ہوں اپنے آپ کو لیکن زبان کی گرہ کھلتی ہی نہیں اور ...

    مزید پڑھیے

    مردہ خانہ

    دنیا کی الا بلا ٹھسی پڑی ہے مجھ میں ہاں کچھ کام کی چیزیں بھی ہیں اس کباڑ خانے میں الہامی کتابوں سے لے کر فلسفہ ادب اور شاعری تک کی لائبریریاں بھری پڑی ہیں دماغ میں آنکھوں میں اتر کر دیکھیں تو حسن دو عالم پائیں گے جلوہ افروز پورے پورے نگار خانے میرے بھی صنم خانے تیرے بھی صنم ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2