Mohammad Haneef Rame

محمد حنیف رامے

محمد حنیف رامے کی نظم

    شانہ بہ شانہ

    مجھے کچھ نہیں معلوم کیا چاہتی ہو تم مجھ سے میرے پاس ہے کیا جو میں دے سکتا ہوں کسی کو طبل و علم ہے پاس اپنے نہ ملک و مال اور پھر کوئی بہت خاص چیز ہی ہونی چاہیے تمہیں نظر کرنے کو تو کیا نہیں ہے تمہارے پاس پہلے سے حسن ایسا کہ خدا بھی خوش ہو گیا ہوگا تمہیں بنا کر رونق سی لگ جاتی ہے بیٹھ ...

    مزید پڑھیے

    جواز

    پیارے بچو پتا ہے خدا نے تمہیں کیوں بنایا ہے اس لیے کہ تم وجہ بے وجہ مسکراؤ اور الجھنوں اور بکھیڑوں میں پڑے ماں باپ کو مسکرانے پر مجبور کر دو پیارے لڑکو پتا ہے خدا نے تمہیں کیوں بنایا ہے اس لیے کہ تم ہر ہر اس مہم میں بے خطر کود پڑو جو بڑے سر کرنا چاہتے تھے لیکن بزدلی یا خوف کی وجہ ...

    مزید پڑھیے

    گریبان

    میں نے گلاب کے پودے سے پوچھا آج کل تم پر پھول کم اور کانٹے زیادہ آ رہے ہیں کہنے لگا میں تمہارا بے دام غلام ہوں ان دنوں تم دشمنی کے کانٹے بونے میں مصروف ہو تمہیں کانٹوں کی ضرورت ہے جس روز تم دوستی کے سفر پر نکلو گے دیکھنا میں کیسے پھولوں کے انبار لگا دوں گا میں نے فاختہ سے کہا دنیا ...

    مزید پڑھیے

    اسم اعظم

    اکیس سال عمر تھی اس کی بس ابھی اس نے گویا زندگی کو آنکھ بھر کے دیکھا بھی نہ تھا کھیلنے کودنے کے دن تھے کہ زمانے کی ریت کے مطابق چٹ منگنی پٹ بیاہ ہو گیا اور تین سال میں تین بچے بھی پیدا ہو گئے پھر اچانک بیچاری کو وہ بیماری مل گئی جس کے پنجے سے کوئی خوش نصیب ہی چھٹتا ہے مجھے برسوں ...

    مزید پڑھیے

    مشق

    برسوں بعد بر نوک زبان رہتا ہے کوئی شعر پھر ایک دن اس کے جانے پہچانے ہزار مرتبہ دہرائے ہوئے الفاظ کے اندر کھل جاتا ہے معانی کا ایک نیا دروازہ اور رہ جاتے ہیں ہم ہکا بکا جس مفہوم پر سر دھنتے آئے تھے کل تک کتنا سطحی کتنا ادھورا تھا وہ شکر کرتے ہیں کہ نہیں پوچھ لیا کسی نے ہم سے اس شعر ...

    مزید پڑھیے

    خلا اور خدا

    تیری راہ دیکھتے دیکھتے آنکھوں نے دیکھنا ہی چھوڑ دیا ہے افسردگی ہڈیوں کے گودے میں ٹیسیں مار رہی ہے گوشت پوست خور زدہ زمین کی طرح بربادی کا نقشہ پیش کر رہا ہے لہو شریانوں میں جم کر رہ گیا ہے نہ آنے والے تو کب تک نہ آئے گا کائناتوں کے خالق کن آفاق میں کھو گیا ہے تو کون سے آسمان بھا ...

    مزید پڑھیے

    امید

    پرسوں نے کل کو پالا تھا پروان چڑھایا کل نے آج اور آج کی کوکھ سے فردا جنم لے رہا ہے جیسے زمین نے سورج سے زندگی پائی تھی اور چاند کو زمین سے رزق پہنچ رہا ہے سورج زمین کا ماضی اور چاند اس کا مستقبل ہے جیسے جمادات سے نباتات سے حیوانات کے بعد انسان پیدا ہو گیا تو زندگی کا سفر یہاں پہنچ ...

    مزید پڑھیے

    یک نکاتی ایجنڈا

    مہینہ بھر سر کے بال نہ کٹواؤں تو مجھے کیا دیکھنے والوں کو وحشت ہونے لگتی ہے ہر ہفتے ہاتھوں اور پیروں کے ناخن نہ لوں تو محسوس ہوتا ہے جانور بنتا جا رہا ہوں صبح شیو نہ بناؤں تو گھر سے نکلتے جھجک آتی ہے ٹھہریے ذرا میں دیکھ لوں باہر یہ شور کیسا ہے ارے مالی لان میں گھاس کی مشین پھیر رہا ...

    مزید پڑھیے

    سہانا خواب

    جیسے سرابوں کا پیچھا کرتے کرتے لق و دق صحرا میں اچانک نخلستان مل جاتا ہے جیسے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر میں خوب صورت پھول کھل جاتے ہیں جیسے ٹنڈمنڈ درختوں پر نئی کونپلیں پھوٹ نکلتی ہیں جیسے چار سو چھائی ہوئی خاموشی میں دیوانی کوئل کوک اٹھتی ہے جیسے مایوسیوں اور تنہائیوں میں محبوب کی ...

    مزید پڑھیے

    گھر

    پیارے بیٹے تو نے اینٹ گارے سیمنٹ اور سریے والا مکان تو بنا لیا ہے میری دعا ہے کہ یہ محبت امن خوشی اور خوش حال سے بھرا گھر بن جائے اس کے دروازے سے کوئی بدی اور برائی داخل ہی نہ ہونے پائے کھڑکیوں سے زندگی بخش ہوا تو ضرور اندر آئے لیکن ہر طوفان باہر ہی رہ جائے تیرا یہ گھر وہ کشتی بن ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2