Mohammad Azhar Shams

محمد اظہر شمس

محمد اظہر شمس کی غزل

    قاتل ہے جو میرا وہی اپنا سا لگے ہے

    قاتل ہے جو میرا وہی اپنا سا لگے ہے دنیا سے جدا ہو کے وہ دنیا سا لگے ہے ہر شام مرے دل میں ہے یادوں سے چراغاں ہر شام مری پلکوں پہ میلا سا لگے ہے کس حال پہ چھوڑے ہے مجھے گردش ایام سبزہ بھی جہاں دیکھے ہوں صحرا سا لگے ہے باطل کے جلائے ہوے دیپک کا ہے چرچا جو سچ کا ہے سورج وہ تماشا سا لگے ...

    مزید پڑھیے

    کل آج سے بہتر ہو آؤ یہ دعا مانگیں

    کل آج سے بہتر ہو آؤ یہ دعا مانگیں منصور و مظفر ہو آؤ یہ دعا مانگیں دنیا کی فصیلوں پر ہوں امن کی رعنائی نے خون نہ خنجر ہو آؤ یہ دعا مانگیں ہیں چاہ میں اقرا کی اس علم دو عالم میں ہر قطرہ سمندر ہو آؤ یہ دعا مانگیں جو تفرقہ ہم میں ہے نشتر کے مماثل ہے اب دور یہ نشتر ہو آؤ یہ دعا ...

    مزید پڑھیے

    ترقی کا وہ دعویٰ کر رہا ہے

    ترقی کا وہ دعویٰ کر رہا ہے مگر ہر شخص فاقہ کر رہا ہے وہ دیکھے ہے مکانات بلندی وہ اجڑے گھر سے پردہ کر رہا ہے مفاد اولیت چاہنے میں وہ انسانوں کا سودا کر رہا ہے برابر میں کمی بیشی کو رکھ کر ترقی کا ارادہ کر رہا ہے دہائی دے کے وہ جمہوریت کی نظام خواب رسوا کر رہا ہے ہوئے حکام اب ...

    مزید پڑھیے

    دور بیٹھے ہیں کیوں پاس تو آئیے

    دور بیٹھے ہیں کیوں پاس تو آئیے وقت رکتا نہیں یوں نہ شرمائیے زینۂ عشق بھی زینت بیت بھی دل میں رکھیے قدم دل میں بس جائیے چار سو ہے گھٹا ہے قیامت بپا زلف بہر کرم یوں نہ بکھرائیے چاند تو ہے حسیں آپ سا تو نہیں بات سچ ہے یہی مان بھی جائیے میں ہوں بسمل نظر آپ کو ہے خبر مر نہ جاؤں کہیں ...

    مزید پڑھیے

    تجلیوں سے اندھیروں کی جنگ جاری ہے

    تجلیوں سے اندھیروں کی جنگ جاری ہے اجالے سرخ رو ہوں یہ دعا ہماری ہے جہاں پہ کل تھا گلستاں وہ آج مقتل ہے فلک خموش ہے پھر دیکھیں کس کی باری ہے سر نیاز جھکانا محبتیں دینا یہ بزدلی نہیں دراصل خاکساری ہے رہ جمود سے نفرت اڑان کی خواہش حقیقتاً یہ ضرورت ہے جاں نثاری ہے یہ گلستاں ہے ...

    مزید پڑھیے

    خواب اس کا تو حقیقت سے زیادہ ہے بہت

    خواب اس کا تو حقیقت سے زیادہ ہے بہت میری الجھن بھی محبت سے زیادہ ہے بہت اس کی سانسوں سے مہک اٹھتے ہیں کتنے ہی گلاب لمس اس کا مجھے دولت سے زیادہ ہے بہت سرخ آنکھوں میں چھپا رکھی ہے میں نے تری یاد شوق دنیا مری ہمت سے زیادہ ہے بہت مری خواہش ہے کہ میں خود سے ملاقات کروں اور یہ خواہش ...

    مزید پڑھیے

    میں دور ہو کے بھی اس سے جدا نہیں ہوتا

    میں دور ہو کے بھی اس سے جدا نہیں ہوتا ہمارے بیچ کوئی فاصلہ نہیں ہوتا بغیر اس کے ہو احساس زندگی کا سفر یہ سوچتا تو ہوں پر حوصلہ نہیں ہوتا وہ اس طرح سے مری زندگی کا حصہ ہے اس ایک حس کا بدل دوسرا نہیں ہوتا کیا ہے گردش حالات نے مجھے مجبور وگرنہ ظرف چھلکتا صدا نہیں ہوتا یہ سب ہے سحر ...

    مزید پڑھیے

    شاخ گلشن پہ تھا جو ٹھکانہ گیا

    شاخ گلشن پہ تھا جو ٹھکانہ گیا اس پرندے کا تو آب و دانہ گیا آندھیوں کی ہے زد پر گھروندے یہاں یعنی ہمدردیوں کا زمانہ گیا زرد موسم کی آمد نے بدلا سماں سبزۂ گلستاں کا زمانہ گیا میری حسرت نے اوڑھی جو لفظی قبا میرے خاموش لب کا ترانہ گیا شمع بزم طرب رات تنہا رہی کوئی پروانہ آخر کیوں ...

    مزید پڑھیے