Mohammad Azhar Shams

محمد اظہر شمس

محمد اظہر شمس کے تمام مواد

8 غزل (Ghazal)

    قاتل ہے جو میرا وہی اپنا سا لگے ہے

    قاتل ہے جو میرا وہی اپنا سا لگے ہے دنیا سے جدا ہو کے وہ دنیا سا لگے ہے ہر شام مرے دل میں ہے یادوں سے چراغاں ہر شام مری پلکوں پہ میلا سا لگے ہے کس حال پہ چھوڑے ہے مجھے گردش ایام سبزہ بھی جہاں دیکھے ہوں صحرا سا لگے ہے باطل کے جلائے ہوے دیپک کا ہے چرچا جو سچ کا ہے سورج وہ تماشا سا لگے ...

    مزید پڑھیے

    کل آج سے بہتر ہو آؤ یہ دعا مانگیں

    کل آج سے بہتر ہو آؤ یہ دعا مانگیں منصور و مظفر ہو آؤ یہ دعا مانگیں دنیا کی فصیلوں پر ہوں امن کی رعنائی نے خون نہ خنجر ہو آؤ یہ دعا مانگیں ہیں چاہ میں اقرا کی اس علم دو عالم میں ہر قطرہ سمندر ہو آؤ یہ دعا مانگیں جو تفرقہ ہم میں ہے نشتر کے مماثل ہے اب دور یہ نشتر ہو آؤ یہ دعا ...

    مزید پڑھیے

    ترقی کا وہ دعویٰ کر رہا ہے

    ترقی کا وہ دعویٰ کر رہا ہے مگر ہر شخص فاقہ کر رہا ہے وہ دیکھے ہے مکانات بلندی وہ اجڑے گھر سے پردہ کر رہا ہے مفاد اولیت چاہنے میں وہ انسانوں کا سودا کر رہا ہے برابر میں کمی بیشی کو رکھ کر ترقی کا ارادہ کر رہا ہے دہائی دے کے وہ جمہوریت کی نظام خواب رسوا کر رہا ہے ہوئے حکام اب ...

    مزید پڑھیے

    دور بیٹھے ہیں کیوں پاس تو آئیے

    دور بیٹھے ہیں کیوں پاس تو آئیے وقت رکتا نہیں یوں نہ شرمائیے زینۂ عشق بھی زینت بیت بھی دل میں رکھیے قدم دل میں بس جائیے چار سو ہے گھٹا ہے قیامت بپا زلف بہر کرم یوں نہ بکھرائیے چاند تو ہے حسیں آپ سا تو نہیں بات سچ ہے یہی مان بھی جائیے میں ہوں بسمل نظر آپ کو ہے خبر مر نہ جاؤں کہیں ...

    مزید پڑھیے

    تجلیوں سے اندھیروں کی جنگ جاری ہے

    تجلیوں سے اندھیروں کی جنگ جاری ہے اجالے سرخ رو ہوں یہ دعا ہماری ہے جہاں پہ کل تھا گلستاں وہ آج مقتل ہے فلک خموش ہے پھر دیکھیں کس کی باری ہے سر نیاز جھکانا محبتیں دینا یہ بزدلی نہیں دراصل خاکساری ہے رہ جمود سے نفرت اڑان کی خواہش حقیقتاً یہ ضرورت ہے جاں نثاری ہے یہ گلستاں ہے ...

    مزید پڑھیے

تمام

1 نظم (Nazm)

    آدمی کا انساں ہونا

    صدیاں قطار در قطار کھڑی ہیں اپنی جگہ ساکت و جامد بڑے تجسس سے دیکھتی ہیں ایک دوسرے سے باتیں کرتی ہیں اسی ایک مسئلے پر جسے حل نہ کر پانے کا افسوس ہے پیشانی پہ بنتی بگڑتی لکیروں کی شکل میں نمایاں ہے جسے حل کرنے کے لئے اللہ نے کتنے ہی نبی اور اوتار زمین پر بھیجے انھوں نے اپنے کلام سے ...

    مزید پڑھیے