قاتل ہے جو میرا وہی اپنا سا لگے ہے
قاتل ہے جو میرا وہی اپنا سا لگے ہے دنیا سے جدا ہو کے وہ دنیا سا لگے ہے ہر شام مرے دل میں ہے یادوں سے چراغاں ہر شام مری پلکوں پہ میلا سا لگے ہے کس حال پہ چھوڑے ہے مجھے گردش ایام سبزہ بھی جہاں دیکھے ہوں صحرا سا لگے ہے باطل کے جلائے ہوے دیپک کا ہے چرچا جو سچ کا ہے سورج وہ تماشا سا لگے ...