Mohammad Atif Aleem

محمد عاطف علیم

معاصر پاکستانی افسانہ نگار۔بدلتے ہوئے تہذیبی و سماجی حالات ان کی کہانیوں کا مرکزی موضوع ہیں۔

Contemporary Pakistani story writer; known for his take on socio-cultural issues.

محمد عاطف علیم کی رباعی

    بیاں اک ناقابل بیاں کا

    (طربیہ خداوندی جدید ۔۲) میرا دس بائی بارہ فٹ کا کمرہ کہ ایک بے دیوار حجرہ ہائے ہفت بلا ہے خاصے کی چیز ہے۔تم اسے معلوم کائنات کا منی ایچر بھی کہہ سکتے ہو کہ یہاں کیا نہیں جس کی چاہ کی جائے۔کون ایسی سزا ہے جو میری مدارات کو موجود نہیں اور کون ایسامن بھاواں عذاب ہے جو میری دل بستگی ...

    مزید پڑھیے

    دھند میں لپٹا ہوا لایعنی وجود

    ایک تیز آواز اس کے خوابیدہ دماغ کی جھلیوں میں ارتعاش پیدا کرتی ہوئی گہرائیوں میں جذب ہوگئی۔ ایسی ہی دوسری آواز پر لگا جیسے دبیز جالے پر کسی نے پتھر پھینک دیا ہو۔ تیسری آواز پر وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ باہر یقیناًکوئی تھا جس نے اس کا نام لے کر اسے پکارا تھا اور اب جواب کا منتظر کھڑا ...

    مزید پڑھیے

    لاوقت میں ایک منجمد مسافت

    وہ ایک طویل نیند سے جاگا تو کھویا گیا۔ اردگرد پھیلے جنگل میں کوئی قہر مچا تھا یا لگا کہ جیسے اس پر سے کوئی سانپ رینگ گیا ہو، وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ اس نے جیتی جاگتی دنیا میں واپسی پر آنکھیں مل کر حیرانی سے دیکھا کہ وہ کائی کی دبیز تہوں میں چھپے دیو قامت بوڑھے درختوں کے جھنڈ میں ...

    مزید پڑھیے

    خواب راستے پر تھمے قدم

    ایک طرف چمکیلے سبز مٹروں کا ڈھیر تھا اور دوسری طرف ان چھلکوں کا ڈھیر تھا جن میں سے دانے نکالے جاچکے تھے اور وہ ان کے بیچ جنگ زدہ سی بکھری بکھرائی، گھٹنوں پر پرات ٹکائے ایک منتشر عزم کے ساتھ دیر سے مٹر چھیلے جارہی تھی۔ اس بار جو اس نے ناخن گاڑ کر مٹرکی پھلی کو کھولا تو دیکھا کہ تین ...

    مزید پڑھیے

    مرگ بردوش

    وہ کہ جانے کس لاڈ بھرے لمحے گُگا کہہ کر پکاراگیا تھااس سمے موت کے گھیرے میں کھڑا ہانپ رہا تھا۔ وہ کھڑے کانوں دور سے آتی موت کی سرگوشیاں سن رہا تھااور جبلی طور پر جان رہا تھا کہ اس کی جانب سے کسی بھی غیر محتاط جنبش کا انتظار کیا جارہا ہے تاکہ اس پر پل پڑنے کیلئے اس کی جائے موجودگی ...

    مزید پڑھیے

    ایک گمشدہ لوری کی بازیافت

    ’’پانی۔۔۔‘‘ یہ پہچان میں واپسی کے بعد پہلا اسم تھا جو اس پر تب القا ہوا جب اس کی پیاس سے پتھرائی زبان نے ریت میں موجود نمی سے ٹھنڈک پائی۔ یہ گزرے جنموں کی بات تھی یا شاید لمحہ بھر پہلے کا ماجرا تھا کہ وہ ایک ننھا منا گل گوتھنا اپنے ننگے کھلکھلاتے وجود کے ساتھ ماں کی گرم آغوش میں ...

    مزید پڑھیے

    طربیہ خداوندی جدید

    )قاطع طربیہ خداوندی از دانتے( طربیہ خداوندی ( قدیم ) کا تیرھواں کانتو اور لایعنیت کے بے انت پھیلاؤ میں پھیلا خود کشوں کا جنگل۔ تم جو خوش بخت ٹھہرو اور اس کائنات پر محیط جہنم زار کے طبقاتِ ارضی میں برپا ابسرڈسفاکیت سے رہائی پانے کی کوئی ترکیب کرپاؤ تو تمہیں یہیں آنا ہوگا۔ یہ ...

    مزید پڑھیے

    جو جاگنے کو ملادیوے خواب میں

    بن ڈر کے ڈرے رہنا اور بے بات کے مرے رہنا۔بس یہی تھا جو جانے سے کب سے چل رہا تھا۔ رات کے آخر آخر میں جب آسمان کی بھید بھری اتھاہ میں ڈولتا چاند زمین کی اور تکتے تکتے بوریت کے مارے بے دم ہوجاتا توتماشا شروع ہوجاتا ۔ وہ بہت سے تھے اور میں اکیلا۔جنے کون کو ن دیسوں یہ چنڈال چوکڑی اکٹھی ...

    مزید پڑھیے

    ڈیڈ لیٹرز ہاؤس میں ایک مردہ خط

    تم نے یہ جھنکار سنی؟ یہ میرے پاؤں میں پڑی زنجیر کی آواز ہے۔ اماوس کے دنوں میں یہ زنجیر نیم مردہ سانپ سی پڑی اونگھا کرتی ہے۔لاکھ پٹکو کوئی صدا نہیں پر جونہی چاند کی پہلی کرن دریچے کی سلاخوں کی راہ اسے سہلاتی ہے، اس میں یکا یک مقناطیسی لہریں دوڑنے لگتی ہیں۔تب یہ انگڑائی لے کر ...

    مزید پڑھیے

    شمشان گھاٹ

    لکڑی کا سال خوردہ دروازہ چر چرا کر کھلا اور وہ لمبا گھونگھٹ کاڑھے کفن ایسی سفید چادر میں لپٹی لپٹائی اندر داخل ہوئی اور دیوار کے ساتھ پشت ٹکاکر بیٹھ گئی۔ فجر کی نماز کے بعد وہاں چڑیوں کی چہکار تلے درس چل رہا تھا۔ مسجد قرار دئیے گئے چار دیواروں کے بیچ اس ادھ کچے کشادہ صحن میں چند ...

    مزید پڑھیے