Mohammad Ali Tishna

محمد علی تشنہ

محمد علی تشنہ کی غزل

    کیا کہا پھر تو کہو دل کی خبر کچھ بھی نہیں

    کیا کہا پھر تو کہو دل کی خبر کچھ بھی نہیں پھر یہ کیا ہے خم گیسو میں اگر کچھ بھی نہیں آنکھ پڑتی ہے کہیں پاؤں کہیں پڑتا ہے سب کی ہے تم کو خبر اپنی خبر کچھ بھی نہیں شمع ہے گل بھی ہے بلبل بھی ہے پروانہ بھی رات کی رات یہ سب کچھ ہے سحر کچھ بھی نہیں حشر کی دھوم ہے سب کہتے ہیں یوں ہے یوں ...

    مزید پڑھیے