کیا کہا پھر تو کہو دل کی خبر کچھ بھی نہیں
کیا کہا پھر تو کہو دل کی خبر کچھ بھی نہیں پھر یہ کیا ہے خم گیسو میں اگر کچھ بھی نہیں آنکھ پڑتی ہے کہیں پاؤں کہیں پڑتا ہے سب کی ہے تم کو خبر اپنی خبر کچھ بھی نہیں شمع ہے گل بھی ہے بلبل بھی ہے پروانہ بھی رات کی رات یہ سب کچھ ہے سحر کچھ بھی نہیں حشر کی دھوم ہے سب کہتے ہیں یوں ہے یوں ...