Mohammad Akram Jazib

محمد اکرم جاذب

محمد اکرم جاذب کی غزل

    کانٹوں کی معیت میں بڑی دیر رہا ہے

    کانٹوں کی معیت میں بڑی دیر رہا ہے جس شخص کی باتوں میں گلابوں کا اثر ہے منزل ابھی آگے ہے کہ چھوڑ آیا ہوں پیچھے مدت سے سفر میں ہوں مجھے اتنی خبر ہے شہرت کی طلب ہے کہ ہے اظہار کا چسکا یہ کسب ستائش ہے کہ پھر کسب ہنر ہے تو بالا ہے رتبے میں سو میں مان رہا ہوں حالانکہ تری بات کا پاؤں ہے ...

    مزید پڑھیے