کانٹوں کی معیت میں بڑی دیر رہا ہے
کانٹوں کی معیت میں بڑی دیر رہا ہے جس شخص کی باتوں میں گلابوں کا اثر ہے منزل ابھی آگے ہے کہ چھوڑ آیا ہوں پیچھے مدت سے سفر میں ہوں مجھے اتنی خبر ہے شہرت کی طلب ہے کہ ہے اظہار کا چسکا یہ کسب ستائش ہے کہ پھر کسب ہنر ہے تو بالا ہے رتبے میں سو میں مان رہا ہوں حالانکہ تری بات کا پاؤں ہے ...