ہم اکیلے ہی سہی شہر میں کیا رکھتے تھے
ہم اکیلے ہی سہی شہر میں کیا رکھتے تھے دل میں جھانکو تو کئی شہر بسا رکھتے تھے اب کسے دیکھنے بیٹھے ہو لئے درد کی ضو اٹھ گئے لوگ جو آنکھوں میں حیا رکھتے تھے اس طرح تازہ خداؤں سے پڑا ہے پالا یہ بھی اب یاد نہیں ہے کہ خدا رکھتے تھے چھین کر کس نے بکھیرا ہے شعاعوں کی طرح رات کا درد زمانے ...