Mohammad Ajmal Niyazi

محمد اجمل نیازی

محمد اجمل نیازی کے تمام مواد

6 غزل (Ghazal)

    ہم اکیلے ہی سہی شہر میں کیا رکھتے تھے

    ہم اکیلے ہی سہی شہر میں کیا رکھتے تھے دل میں جھانکو تو کئی شہر بسا رکھتے تھے اب کسے دیکھنے بیٹھے ہو لئے درد کی ضو اٹھ گئے لوگ جو آنکھوں میں حیا رکھتے تھے اس طرح تازہ خداؤں سے پڑا ہے پالا یہ بھی اب یاد نہیں ہے کہ خدا رکھتے تھے چھین کر کس نے بکھیرا ہے شعاعوں کی طرح رات کا درد زمانے ...

    مزید پڑھیے

    بکھرتی خاک میں کوئی خزانہ ڈھونڈھتی ہے

    بکھرتی خاک میں کوئی خزانہ ڈھونڈھتی ہے تھکی ہاری زمیں اپنا زمانہ ڈھونڈھتی ہے شجر کٹتے چلے جاتے ہیں دل کی بستیوں میں تری یادوں کی چڑیا آشیانہ ڈھونڈھتی ہے یقیں کی سر زمیں ظاہر ہوئی اجڑے لہو میں یہ ارض بے وطن اپنا ترانہ ڈھونڈھتی ہے بھٹکتی ہے تجھے ملنے کی خواہش محفلوں میں یہ ...

    مزید پڑھیے

    اک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں

    اک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں اک گھر ہے تنہا یادوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں اک آنکھیں دریا آنکھوں کا ہر منظر اس میں ڈوب گیا اک چہرہ صحرا چہروں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں اک خواب خزانہ نیندوں کا وہ ہم سب نے برباد کیا اک نیند خرابہ خوابوں کا اور ہم سب اس میں ...

    مزید پڑھیے

    اضطراب خاک امجد میں کہیں رہتا ہے وہ

    اضطراب خاک امجد میں کہیں رہتا ہے وہ کائنات روح احمد میں کہیں رہتا ہے وہ دائرہ در دائرہ صدیاں بلاتی ہیں اسے سچی آوازوں کے گنبد میں کہیں رہتا ہے وہ ڈھونڈنے نکلے ہیں جس کو علم کے صحرا میں ہم درد و غم کی راہ ابجد میں کہیں رہتا ہے وہ یاد آتا ہے مصیبت میں دعاؤں کی طرح شہر کے ویران ...

    مزید پڑھیے

    گہری آنکھوں میں یہ کیسی ہے بچھڑتی محفلوں کی روشنی

    گہری آنکھوں میں یہ کیسی ہے بچھڑتی محفلوں کی روشنی اجنبی لوگوں میں دیکھی میں نے اپنے دوستوں کی روشنی منزلوں پر وہ پہنچ کر بھی ابھی تک منزلوں جیسا نہیں اس کی سوچوں سے بندھی ہے راستے کے منظروں کی روشنی اس کے میرے درمیاں پاکیزگی کا رقص تو ہوتا نہیں ایک پردے کی طرح رہتی ہے ننگی ...

    مزید پڑھیے

تمام