Mohammad Abdul Kabeer Hanfi

محمد عبدالکبیر حنفی

  • 1950

محمد عبدالکبیر حنفی کی غزل

    حق پسند حق آشنا ہو جائیے

    حق پسند حق آشنا ہو جائیے آپ اپنا آئنہ ہو جائیے شرط ان کی آؤ موسیٰ کی طرح اپنی ضد جلوہ نما ہو جائیے اور کب تک ظلمتوں کا تذکرہ روشنی کا سلسلہ ہو جائیے رہزنی میں پردہ داری شرط ہے ایسا کیجے رہنما ہو جائیے خاک ہونا ہی مقدر ہے تو پھر خاک پائے مصطفیٰ ہو جائیے

    مزید پڑھیے

    الجھنوں کا شکار ہیں ہم لوگ

    الجھنوں کا شکار ہیں ہم لوگ یعنی غفلت شعار ہیں ہم لوگ کرکے سوراخ بادبانوں میں کشتیوں پر سوار ہیں ہم لوگ کم تھے پھر بھی شمار ہوتے تھے اب فقط بے شمار ہیں ہم لوگ کوئی ہم پر کرے حکومت کیوں اخروی تاجدار ہیں ہم لوگ کوئی ہم کو مٹا نہ پائے گا ابن حق کا شعار ہیں ہم لوگ

    مزید پڑھیے