الجھنوں کا شکار ہیں ہم لوگ
الجھنوں کا شکار ہیں ہم لوگ
یعنی غفلت شعار ہیں ہم لوگ
کرکے سوراخ بادبانوں میں
کشتیوں پر سوار ہیں ہم لوگ
کم تھے پھر بھی شمار ہوتے تھے
اب فقط بے شمار ہیں ہم لوگ
کوئی ہم پر کرے حکومت کیوں
اخروی تاجدار ہیں ہم لوگ
کوئی ہم کو مٹا نہ پائے گا
ابن حق کا شعار ہیں ہم لوگ