Mohammad Abbas Safiir

محمد عباس سفیر

محمد عباس سفیر کی غزل

    ہجر میں دل کا داغ جلتا ہے

    ہجر میں دل کا داغ جلتا ہے بے کسی کا چراغ جلتا ہے دل جلاتے ہو سرد مہری سے اس طرح بھی چراغ جلتا ہے میری آنکھوں میں ان کا جلوہ ہے آئنہ میں چراغ جلتا ہے دم ہے آنکھوں میں نبضیں ڈوبی ہیں دھیما دھیما چراغ جلتا ہے شعلۂ آہ یہ نہیں ہے سفیرؔ حسرتوں کا چراغ جلتا ہے

    مزید پڑھیے

    ان کے جلوے سحر و شام تک آ پہنچے ہیں

    ان کے جلوے سحر و شام تک آ پہنچے ہیں میرے آغاز اب انجام تک آ پہنچے ہیں حضرت خضر پریشاں نہ ہو آرام کریں ہم بھی اب منزل آرام تک آ پہنچے ہیں تہمت عشق میں ہم آج اکیلے تو نہیں وہ بھی اب مرکز الزام تک آ پہنچے ہیں مے کشو مژدۂ مستی کہ جناب واعظ بڑھ کے اب تذکرۂ جام تک آ پہنچے ہیں اس کو ...

    مزید پڑھیے

    بڑی عبرت کی منزل ہے زمیں گور غریباں کی

    بڑی عبرت کی منزل ہے زمیں گور غریباں کی یہاں اپنی حقیقت پر نظر پڑتی ہے انساں کی یہی دھن تھی کہیں میرا دل گم گشتہ مل جائے اسی وحشت میں برسوں خاک چھانی کوئے جاناں کی جہاں نبضیں رکیں دل سرد ہو دو ہچکیاں آئیں سمجھ لیجے کہ منزل آ گئی گور غریباں کی نہ جائے گا میرے دل سے خیال ابروئے ...

    مزید پڑھیے

    الفت ہو تو الفت کے سہارے بھی بہت ہیں

    الفت ہو تو الفت کے سہارے بھی بہت ہیں آنکھوں میں محبت کے اشارے بھی بہت ہیں ہمت ہے تو مایوس نہ ہو ڈوبنے والے طوفان ہیں موجوں کے سہارے بھی بہت ہیں اے جلوۂ رنگیں کے ضیا دیکھنے والو ہوں آنکھ اگر ان کے نظارے بھی بہت ہیں اپنوں نے تو معیار وفا ہی نہ بتایا اس راہ میں احسان تمہارے بھی ...

    مزید پڑھیے

    دل کی مایوس تمناؤں کو مر جانے دو

    دل کی مایوس تمناؤں کو مر جانے دو درد کو آخری منزل سے گزر جانے دو میں نے کب ساغر و صہبا سے کیا ہے انکار نشۂ بادۂ ہستی تو اتر جانے دو جس کی اے اہل چمن کی ہے لہو سے تعمیر اب وہ شیرازۂ گلشن نہ بکھر جانے دو چار تنکوں کی بھی تعمیر ہے کوئی تعمیر فصل گل آئے گی رکھ لیں گے بکھر جانے ...

    مزید پڑھیے

    نہ ہو مرضی خدا کی تو کسی سے کچھ نہیں ہوتا

    نہ ہو مرضی خدا کی تو کسی سے کچھ نہیں ہوتا جو چاہے آدمی تو آدمی سے کچھ نہیں ہوتا کہاں کے دوست کیسے اقربا جب وقت پڑتا ہے مصیبت میں کسی کی دوستی سے کچھ نہیں ہوتا عمل کی زندگانی در حقیقت زندگانی ہے جئے جاؤ تو خالی زندگی سے کچھ نہیں ہوتا اجل آئے گی جاں جائے گی اک ساعت معین پر عزیز و ...

    مزید پڑھیے

    پیہم اداسیوں سے بیاباں ہے زندگی

    پیہم اداسیوں سے بیاباں ہے زندگی دل میں بہار ہو تو گلستاں ہے زندگی اے انتہائے کشمکش شیخ و برہمن ہندو ہے زندگی نہ مسلماں ہے زندگی بے‌ چینیوں میں غرق ہے سرمایۂ حیات تعبیر ہائے خواب پریشاں ہے زندگی ہے موت اختتام پریشانیوں کا نام جب تک یہ زندگی ہے پریشاں ہے زندگی غافل نہیں تو ...

    مزید پڑھیے

    ترے دیوانے اظہار محبت کر نہیں سکتے

    ترے دیوانے اظہار محبت کر نہیں سکتے محبت کر کے توہین محبت کر نہیں سکتے تعلق خاص ہے دل کو خیال رنج و راحت سے کسی کو ہم شریک رنج و راحت کر نہیں سکتے جو شیدا ہیں محبت کے جو دیوانے ہیں الفت کے وہ اپنے دشمنوں سے بھی عداوت کر نہیں سکتے جواں ہیں جن کے پہلو میں خیال پاس خودداری ضرورت میں ...

    مزید پڑھیے

    آپ کو گردش ایام سے ڈر لگتا ہے

    آپ کو گردش ایام سے ڈر لگتا ہے اور ہمیں عشق کے انجام سے ڈر لگتا ہے چشم ساقی کے اشارے میں نہاں کیا شے تھی حسرت بادۂ گلفام سے ڈر لگتا ہے زیر لب ان کے تبسم سے سکون مانگ تو لوں اپنی ہی جرأت ناکام سے ڈر لگتا ہے نام جو آٹھ پہر ورد زباں رہتا تھا اب یہ وحشت ہے اسی نام سے ڈر لگتا ہے حضرت ...

    مزید پڑھیے

    یہ لو کیسی ہے جو اک سانس بھی مدھم نہیں ہوتی

    یہ لو کیسی ہے جو اک سانس بھی مدھم نہیں ہوتی بھلانے پر بھی ظالم یاد اس کی کم نہیں ہوتی یہ مطلب آشنا دنیا یہ ظالم بے وفا دنیا شریک عیش کر لیجے شریک غم نہیں ہوتی عدم کے جانے والے قافلے دن رات چلتے ہیں مگر اس انجمن کی دل کشی کچھ کم نہیں ہوتی نہ پوچھ اے ہم نشیں روداد ہائے شام غم ہم ...

    مزید پڑھیے