Mohammad Abbas Safiir

محمد عباس سفیر

محمد عباس سفیر کے تمام مواد

10 غزل (Ghazal)

    ہجر میں دل کا داغ جلتا ہے

    ہجر میں دل کا داغ جلتا ہے بے کسی کا چراغ جلتا ہے دل جلاتے ہو سرد مہری سے اس طرح بھی چراغ جلتا ہے میری آنکھوں میں ان کا جلوہ ہے آئنہ میں چراغ جلتا ہے دم ہے آنکھوں میں نبضیں ڈوبی ہیں دھیما دھیما چراغ جلتا ہے شعلۂ آہ یہ نہیں ہے سفیرؔ حسرتوں کا چراغ جلتا ہے

    مزید پڑھیے

    ان کے جلوے سحر و شام تک آ پہنچے ہیں

    ان کے جلوے سحر و شام تک آ پہنچے ہیں میرے آغاز اب انجام تک آ پہنچے ہیں حضرت خضر پریشاں نہ ہو آرام کریں ہم بھی اب منزل آرام تک آ پہنچے ہیں تہمت عشق میں ہم آج اکیلے تو نہیں وہ بھی اب مرکز الزام تک آ پہنچے ہیں مے کشو مژدۂ مستی کہ جناب واعظ بڑھ کے اب تذکرۂ جام تک آ پہنچے ہیں اس کو ...

    مزید پڑھیے

    بڑی عبرت کی منزل ہے زمیں گور غریباں کی

    بڑی عبرت کی منزل ہے زمیں گور غریباں کی یہاں اپنی حقیقت پر نظر پڑتی ہے انساں کی یہی دھن تھی کہیں میرا دل گم گشتہ مل جائے اسی وحشت میں برسوں خاک چھانی کوئے جاناں کی جہاں نبضیں رکیں دل سرد ہو دو ہچکیاں آئیں سمجھ لیجے کہ منزل آ گئی گور غریباں کی نہ جائے گا میرے دل سے خیال ابروئے ...

    مزید پڑھیے

    الفت ہو تو الفت کے سہارے بھی بہت ہیں

    الفت ہو تو الفت کے سہارے بھی بہت ہیں آنکھوں میں محبت کے اشارے بھی بہت ہیں ہمت ہے تو مایوس نہ ہو ڈوبنے والے طوفان ہیں موجوں کے سہارے بھی بہت ہیں اے جلوۂ رنگیں کے ضیا دیکھنے والو ہوں آنکھ اگر ان کے نظارے بھی بہت ہیں اپنوں نے تو معیار وفا ہی نہ بتایا اس راہ میں احسان تمہارے بھی ...

    مزید پڑھیے

    دل کی مایوس تمناؤں کو مر جانے دو

    دل کی مایوس تمناؤں کو مر جانے دو درد کو آخری منزل سے گزر جانے دو میں نے کب ساغر و صہبا سے کیا ہے انکار نشۂ بادۂ ہستی تو اتر جانے دو جس کی اے اہل چمن کی ہے لہو سے تعمیر اب وہ شیرازۂ گلشن نہ بکھر جانے دو چار تنکوں کی بھی تعمیر ہے کوئی تعمیر فصل گل آئے گی رکھ لیں گے بکھر جانے ...

    مزید پڑھیے

تمام