دل میں جنہیں اتارتے دل سے وہی اتر گئے
دل میں جنہیں اتارتے دل سے وہی اتر گئے جسم کو چومتے رہے روح پہ وار کر گئے پھر سر شاخ آرزو کھل کے مہک اٹھی کلی درد کی فصل ہو چکی داغ کے دن گزر گئے سارے ملامتوں کے تیر جن کا ہدف بنے تھے ہم اپنے لیے وہ تیر بھی کام دعا کا کر گئے آج تو تیری یاد بھی مرہم دل نہ ہو سکی زخم ضرور دب گئے داغ ...