Moghisuddin Fareedi

مغیث الدین فریدی

مغیث الدین فریدی کی غزل

    دل میں جنہیں اتارتے دل سے وہی اتر گئے

    دل میں جنہیں اتارتے دل سے وہی اتر گئے جسم کو چومتے رہے روح پہ وار کر گئے پھر سر شاخ آرزو کھل کے مہک اٹھی کلی درد کی فصل ہو چکی داغ کے دن گزر گئے سارے ملامتوں کے تیر جن کا ہدف بنے تھے ہم اپنے لیے وہ تیر بھی کام دعا کا کر گئے آج تو تیری یاد بھی مرہم دل نہ ہو سکی زخم ضرور دب گئے داغ ...

    مزید پڑھیے

    ملتی ہے نظر ان سے تو کھو جاتے ہیں ہم اور

    ملتی ہے نظر ان سے تو کھو جاتے ہیں ہم اور منزل کے قریب آ کے بہکتے ہیں قدم اور مارے ہوئے ہیں کشمکش وہم و یقیں کے ٹوٹے ہوئے ہر بت سے تراشے ہیں صنم اور یہ بات سمجھتے ہی نہیں حضرت ناصح سلتا ہے اگر چاک تو کھلتا ہے بھرم اور تدبیر کا ہر نقش دل آویز ہے لیکن ہے کاتب تقدیر کا انداز رقم ...

    مزید پڑھیے

    ہم نے تنہا نشینی خریدی تو ہے رونق و شورش انجمن بیچ کر

    ہم نے تنہا نشینی خریدی تو ہے رونق و شورش انجمن بیچ کر شمع محراب دل میں جلائی تو ہے آرزوؤں کا اپنی کفن بیچ کر مطمئن ہیں بہت آج ارباب فن اپنا سرمایۂ فکر و فن بیچ کر جیسے آئینہ رکھ دے کوئی ماہ وش حلقۂ زلف کا بانکپن بیچ کر کھو گیا درد ہنگامۂ شہر میں لٹ رہی ہے دکان متاع نظر اب بھی ...

    مزید پڑھیے

    ہستی کے ہر اک موڑ پہ آئینہ بنا ہوں

    ہستی کے ہر اک موڑ پہ آئینہ بنا ہوں مٹ مٹ کے ابھرتا ہوا نقش کف پا ہوں وہ دست طلب ہوں جو دعا کو نہیں اٹھتا جو لب پہ کسی کے نہیں آئی وہ دعا ہوں اس دور میں انسان کا چہرہ نہیں ملتا کب سے میں نقابوں کی تہیں کھول رہا ہوں بستی میں بسیرے کا ارادہ تو نہیں تھا دیوانہ ہوں صحرا کا پتا بھول گیا ...

    مزید پڑھیے

    بے شوق طلب بے ذوق نظر بے رنگ تھی ان کی گل بدنی

    بے شوق طلب بے ذوق نظر بے رنگ تھی ان کی گل بدنی یہ کوہکن و مجنوں کی نظر شیریں بھی بنی لیلیٰ بھی بنی دیکھے ہوئے ان کو دیر ہوئی ہر نقش ابھی تک تازہ ہے بے گانہ وشی مستانہ روی جادو نظری شیریں سخنی ہم اپنے ہی گھر میں رہتے تھے جب تیری نظر میں رہتے تھے اب روز ستاتی ہے ہم کو اے دوست وطن میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2