Moghisuddin Fareedi

مغیث الدین فریدی

مغیث الدین فریدی کی غزل

    آنسو بھی بہا کر دیکھ لیے سوز غم پنہاں کم نہ ہوا

    آنسو بھی بہا کر دیکھ لیے سوز غم پنہاں کم نہ ہوا دل میں تری الفت کا شعلہ شعلہ ہی رہا شبنم نہ ہوا دنیا کی بہاروں میں کھو کر میں اپنی نظر سے چھپ جاتا صد شکر دل آگاہ مرا دل بن گیا جام جم نہ ہوا تھا داغ تمنا روح شکن کچھ ہمت غم کام آ ہی گئی دل میں تو بڑے طوفان اٹھے آنسو نہ بہے ماتم نہ ...

    مزید پڑھیے

    شعور ذات تھوڑا سا دل ناداں میں رکھتے ہیں

    شعور ذات تھوڑا سا دل ناداں میں رکھتے ہیں جمال آگہی جہل خرد افشاں میں رکھتے ہیں چمن کیسا بیاباں کیا سمٹ آئے گی یہ دنیا جنوں کے دم سے اتنی وسعتیں داماں میں رکھتے ہیں نظر کے سامنے رہتا ہے عکس گردش دوراں ہم آئینہ کو دل کے روزن زنداں میں رکھتے ہیں ہجوم غم میں یادوں کے نہاں خانے مہک ...

    مزید پڑھیے

    تو اپنے پندار کی خبر لے کہ رخ ہوا کا بدل رہا ہے

    تو اپنے پندار کی خبر لے کہ رخ ہوا کا بدل رہا ہے تری نظر سے بہکنے والا فریب کھا کر سنبھل رہا ہے یہی ہے دستور شہر ہستی کہ جو نیا ہے وہی پرانا حیات انگڑائی لے رہی ہے زمانہ کروٹ بدل رہا ہے رہ طلب میں جنوں نے اکثر شعور کو آئینہ دکھایا جسے تھا عذر شکستہ پائی وہ اب ستاروں پہ چل رہا ...

    مزید پڑھیے

    حسن ظن کام لیجے بد گمانی پھر سہی

    حسن ظن کام لیجے بد گمانی پھر سہی بے تکلف اور کیجے مہربانی پھر سہی آج جو بیتی ہے دل پر ماجرا اس کا سنو داستان عشرت عہد جوانی پھر سہی ظرف سے کم وقت سے پہلے نہیں ملتی یہاں آج زہر غم ہی پی لو ارغوانی پھر سہی تیغ کس کے ہاتھ میں تھی کون تھا سینہ سپر یہ کہانی آج سن لو وہ کہانی پھر ...

    مزید پڑھیے

    دل بے قرار چلا تو تھا گلۂ حیات لیے ہوئے

    دل بے قرار چلا تو تھا گلۂ حیات لیے ہوئے غم عشق روح پہ چھا گیا غم کائنات لیے ہوئے کبھی بے ارادہ چھلک گئی تھی کسی کے ذکر پہ چشم نم وہ ہیں مجھ سے آج بھی بد گماں وہی ایک بات لیے ہوئے مرے دل کے ساتھ ہی چھین لے مری خود شناس نگاہ بھی میں ترے قریب نہ آؤں گا یہ توہمات لیے ہوئے کبھی تجھ پہ ...

    مزید پڑھیے

    ہوا سے بادہ نچوڑیں کلی کو جام کریں

    ہوا سے بادہ نچوڑیں کلی کو جام کریں سکوت رنگ چمن سے ذرا کلام کریں ہمیں تو کوئی بھی پہچانتا نہیں ہے یہاں نگاہ کس سے ملائیں کسے سلام کریں زمانہ اس پہ تلا ہے خرد کی بات رہے ہمیں یہ ضد ہے کہ اونچا جنوں کا نام کریں فضا ہے گوش بر آواز چپ ہیں اہل نوا اب اس ادھوری کہانی کو ہم تمام ...

    مزید پڑھیے

    برسوں جو نظر طوفانوں کے آغوش میں پلتی رہتی ہے

    برسوں جو نظر طوفانوں کے آغوش میں پلتی رہتی ہے اس مست نظر کی ہر جنبش افسانے اگلتی رہتی ہے جو ترک طلب سے پہلے تھا دل کا وہی عالم آج بھی ہے آئینہ نہیں بدلا جاتا تصویر بدلتی رہتی ہے جی بھر کے اسے دیکھا لیکن اب تک یہ نظر بھرتی ہی نہیں معصوم ادا میں رہ رہ کر اک بات نکلتی رہتی ہے تو ...

    مزید پڑھیے

    انداز سخن مصلحت آمیز بہت ہے

    انداز سخن مصلحت آمیز بہت ہے پھر بھی یہ ادا تیری دل آویز بہت ہے آشفتہ مزاجی پہ مری طنز نہ کیجے انداز جہاں بھی تو جنوں خیز بہت ہے ہم سے وہ ملا ہے تو کھلے دل سے ملا ہے دنیا کو شکایت ہے کم آمیز بہت ہے ہم اس سے جدا ہو کے بھی یوں جھوم رہے ہیں جیسے کہ یہ لمحہ بھی طرب خیز بہت ہے اک بار ...

    مزید پڑھیے

    ہر کڑے وقت پہ آئینہ دکھایا ہے مجھے

    ہر کڑے وقت پہ آئینہ دکھایا ہے مجھے زندگی تو نے بڑے پیار سے برتا ہے مجھے بڑھ کے چومے ہیں غم عشق نے بھی میرے قدم غم دوراں نے بھی آنکھوں پہ بٹھایا ہے مجھے راہ پر پیچ پہ ہے زلف رسا کا دھوکا دشت آغوش تمنا نظر آیا ہے مجھے اپنے غم خوار کے اشکوں کو تکا کرتا ہوں گردش وقت نے پلکوں پہ سجایا ...

    مزید پڑھیے

    مفت ہے خون جگر عظمت کردار کے ساتھ

    مفت ہے خون جگر عظمت کردار کے ساتھ اشک ملتے ہیں یہاں دیدۂ بیدار کے ساتھ ہم نے مانگا تھا سہارا تو ملی اس کی سزا گھٹتے بڑھتے رہے ہم سایۂ دیوار کے ساتھ آج تو حضرت ناصح بھی لپٹ کر مجھ سے رقص کرتے رہے زنجیر کی جھنکار کے ساتھ دل برباد پہ ہے سایہ فگن یاد تری سایۂ فضل خدا جیسے گنہ گار ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2