Moazzam Ali Khan

معظم علی خاں

معظم علی خاں کے تمام مواد

7 غزل (Ghazal)

    رنگ شفق بس حسن نظر ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے

    رنگ شفق بس حسن نظر ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے شام کا چہرہ خون سے تر ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے ایک چمکتی شے کو آخر تم آنسو کیوں سمجھے ہو دست خودی میں کوئی گہر ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے سب کہتے ہیں کھو کر اس کو کھویا کھویا رہتا ہوں اس کا تصور خواب اثر ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے جہد مسلسل کے ...

    مزید پڑھیے

    سپرد آہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے

    سپرد آہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے یہ دل تباہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے غموں سے شغل رفاقت تو خیر مشکل تھا مگر نباہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے طلسم جنت آدم تھا رات کا منظر جو ہم گناہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے ہم اپنے قلب منور کو اے شب احساس چراغ راہ نہ کرتے تو اور کیا کرتے مآل حسن نظر پر ...

    مزید پڑھیے

    ترک الفت میں ہے آرام بہت

    ترک الفت میں ہے آرام بہت گل رخو ہو چکے بدنام بہت ہم ہی نادان تھے جرأت نہ ہوئی کوئی آیا تو لب بام بہت ہو مقدر تو قدم چومے گی سمت منزل تو ہیں دو گام بہت ٹمٹماتے ہیں گئی رات دیے جگمگاتے تھے سر شام بہت بھول جاتا ہوں میں خود کو اکثر یاد آتے ہیں کئی نام بہت دیدہ ور فرق سمجھ لیں ...

    مزید پڑھیے

    پتھروں کے درمیاں بہتی ندی اچھی لگی

    پتھروں کے درمیاں بہتی ندی اچھی لگی جب حصار غم میں گزری زندگی اچھی لگی ایک پتھر پھینکنے پر گاؤں کے تالاب میں پر سکوں موجوں کی اکثر برہمی اچھی لگی شب کی تنہائی میں دروازے پہ دستک دفعتاً گھپ اندھیرے میں اچانک روشنی اچھی لگی بخشتی ہے چاندنی کہرے کو بھی تابانیاں اس کے چہرے پر ...

    مزید پڑھیے

    رواج قتل انسانی بہت ہے

    رواج قتل انسانی بہت ہے یہاں مرنے کی آسانی بہت ہے کہیں برسات کے موسم میں سوکھا کہیں دریا میں طغیانی بہت ہے خوشی کا قحط ہے بستی میں دل کی مگر غم کی فراوانی بہت ہے لباس مصلحت تم کو مبارک ہمیں تو چاک دامانی بہت ہے سمجھتی ہے اندھیروں کو اجالا ہماری عقل دیوانی بہت ہے سراپا حسن ...

    مزید پڑھیے

تمام