Miskeen Shah

مسکین شاہ

مسکین شاہ کی غزل

    شمع روشن جسم فانوس خیالی میں ہے آج

    شمع روشن جسم فانوس خیالی میں ہے آج روح جوں مثل مگس مکڑوں کی جالی میں آج ہم نہیں ہرگز حباب بحر امکاں دہر میں صانع کونین شکل بے مثالی میں ہے آج کعبۂ دل عرش ہے ہر دم جہاں رہتا ہوں میں میری پہچانت یہ جسم لا یزالی میں ہے آج نام سن کر جو کوئی آیا ہے وہ پایا ہمیں اسم اعظم کی صفت اس اسم ...

    مزید پڑھیے

    کل ہم سے ملاقات میں وہ یار جو کی بحث

    کل ہم سے ملاقات میں وہ یار جو کی بحث میں بھی وہیں اک بات میں بیزار ہو کی بحث لڑتے نہ کسی طرح سے اس سے کبھی ہرگز پر کیا کروں اس وقت میں لاچار ہو کی بحث لایا تھا مرے دل کی گرفتاری کا سامان اس واسطے میں اس سے بہ تکرار ہو کی بحث سمجھا کے لگا کہنے کہ آ ہم سے تو مل جا میں تیرے لیے بر سر ...

    مزید پڑھیے

    سنتے ہی دل ہو گیا اس یار کا اسرار مست

    سنتے ہی دل ہو گیا اس یار کا اسرار مست ہوشیاری کیا کرے جب دل ہو سو سو بار مست شہرۂ آفاق اس مہ سے یہ ہے مستوں کا حال پھینکتے ہیں سر سے اپنے خاک پر دستار مست سر برہنہ بے سر و ساماں جو دل افگار ہیں بزم مستاں میں وہی مشہور ہیں سردار مست بے خودی دیوانگی میں اس طرح سرشار ہیں بھولتے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    کسی کا ایک ہے دشمن تو دوست دار ہے ایک

    کسی کا ایک ہے دشمن تو دوست دار ہے ایک ہمارا ہجر عدو ایک وصل یار ہے ایک جہاں میں شادی و غم سے نہیں ہے دور کوئی خزاں عدو ہے مرا ایک اور بہار ہے ایک خوشی نصیب نہیں ہم کو تابہ حشر کوئی ہزار رنج ہیں ایک اور یہ دل فگار ہے ایک بسان مرگ و حیات اہل دل کو عالم میں ہمیشہ ایک ہے دل جس پہ غم ...

    مزید پڑھیے

    نہیں ہے مجھ کو اے جمشید تیرے جام سے کام

    نہیں ہے مجھ کو اے جمشید تیرے جام سے کام جہاں نما ہے مجھے اپنے خوش خرام سے کام سبھی تو دین و دنیا کا کام کرتے ہیں مجھے نہ دین نہ دنیا کے انتظام سے کام حرم میں شیخ ہیں اور دیر میں برہمن ہیں ہمیں نہیں ہے انہوں کے کوئی کلام سے کام کنشت دل میں ہے اک جوش بت پرستی کا مجھے بتوں کی ہے خدمت ...

    مزید پڑھیے

    میرا شاہد وہ ہمیں عیار آتا ہے نظر

    میرا شاہد وہ ہمیں عیار آتا ہے نظر ہم کو ہم پاتے نہیں جب یار آتا ہے نظر کثرت شوق محبت میں مجھے ہر طرح سے جس طرف دیکھوں رخ دل دار آتا ہے نظر جان کا دھوکا ہمیں ہوتا ہے راہ عشق میں مرگ کا ہر ایک دم آثار آتا ہے نظر داغ ہجراں کے سوا لایا نہ کوئے یار سے جو کوئی اس راہ کا بیمار آتا ہے ...

    مزید پڑھیے

    ماہ رو یاں ہزار کو دیکھا

    ماہ رو یاں ہزار کو دیکھا ہم نے اب تک نہ یار کو دیکھا عمر بھر منتظر رہے اس کے راہ کے انتظار کو دیکھا وعدۂ حشر لوگ کہتے ہیں ہم نے وہ بھی قرار کو دیکھا کوئی آیا نظر نہ اس جا بھی جب دل غم گسار کو دیکھا رہ گئے نامراد دنیا میں کتنے سر افتخار کو دیکھا باغ ہستی میں سرخ رو نہ ہوئے گل کے ...

    مزید پڑھیے