Miskeen Shah

مسکین شاہ

مسکین شاہ کے تمام مواد

7 غزل (Ghazal)

    شمع روشن جسم فانوس خیالی میں ہے آج

    شمع روشن جسم فانوس خیالی میں ہے آج روح جوں مثل مگس مکڑوں کی جالی میں آج ہم نہیں ہرگز حباب بحر امکاں دہر میں صانع کونین شکل بے مثالی میں ہے آج کعبۂ دل عرش ہے ہر دم جہاں رہتا ہوں میں میری پہچانت یہ جسم لا یزالی میں ہے آج نام سن کر جو کوئی آیا ہے وہ پایا ہمیں اسم اعظم کی صفت اس اسم ...

    مزید پڑھیے

    کل ہم سے ملاقات میں وہ یار جو کی بحث

    کل ہم سے ملاقات میں وہ یار جو کی بحث میں بھی وہیں اک بات میں بیزار ہو کی بحث لڑتے نہ کسی طرح سے اس سے کبھی ہرگز پر کیا کروں اس وقت میں لاچار ہو کی بحث لایا تھا مرے دل کی گرفتاری کا سامان اس واسطے میں اس سے بہ تکرار ہو کی بحث سمجھا کے لگا کہنے کہ آ ہم سے تو مل جا میں تیرے لیے بر سر ...

    مزید پڑھیے

    سنتے ہی دل ہو گیا اس یار کا اسرار مست

    سنتے ہی دل ہو گیا اس یار کا اسرار مست ہوشیاری کیا کرے جب دل ہو سو سو بار مست شہرۂ آفاق اس مہ سے یہ ہے مستوں کا حال پھینکتے ہیں سر سے اپنے خاک پر دستار مست سر برہنہ بے سر و ساماں جو دل افگار ہیں بزم مستاں میں وہی مشہور ہیں سردار مست بے خودی دیوانگی میں اس طرح سرشار ہیں بھولتے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    کسی کا ایک ہے دشمن تو دوست دار ہے ایک

    کسی کا ایک ہے دشمن تو دوست دار ہے ایک ہمارا ہجر عدو ایک وصل یار ہے ایک جہاں میں شادی و غم سے نہیں ہے دور کوئی خزاں عدو ہے مرا ایک اور بہار ہے ایک خوشی نصیب نہیں ہم کو تابہ حشر کوئی ہزار رنج ہیں ایک اور یہ دل فگار ہے ایک بسان مرگ و حیات اہل دل کو عالم میں ہمیشہ ایک ہے دل جس پہ غم ...

    مزید پڑھیے

    نہیں ہے مجھ کو اے جمشید تیرے جام سے کام

    نہیں ہے مجھ کو اے جمشید تیرے جام سے کام جہاں نما ہے مجھے اپنے خوش خرام سے کام سبھی تو دین و دنیا کا کام کرتے ہیں مجھے نہ دین نہ دنیا کے انتظام سے کام حرم میں شیخ ہیں اور دیر میں برہمن ہیں ہمیں نہیں ہے انہوں کے کوئی کلام سے کام کنشت دل میں ہے اک جوش بت پرستی کا مجھے بتوں کی ہے خدمت ...

    مزید پڑھیے

تمام