شمع روشن جسم فانوس خیالی میں ہے آج
شمع روشن جسم فانوس خیالی میں ہے آج روح جوں مثل مگس مکڑوں کی جالی میں آج ہم نہیں ہرگز حباب بحر امکاں دہر میں صانع کونین شکل بے مثالی میں ہے آج کعبۂ دل عرش ہے ہر دم جہاں رہتا ہوں میں میری پہچانت یہ جسم لا یزالی میں ہے آج نام سن کر جو کوئی آیا ہے وہ پایا ہمیں اسم اعظم کی صفت اس اسم ...