آپ کی گر مہربانی ہو چکی
آپ کی گر مہربانی ہو چکی تو ہماری زندگانی ہو چکی بیٹھ کر اٹھے نہ کوئے یار سے انتہائے ناتوانی ہو چکی ہنس دیا رونے پہ وہ اے چشم تر آبرو اشکوں کی پانی ہو چکی
شہرہ آفاق عشقیہ مثنوی "زہر عشق " کے لیے معروف
Known for his iconic Masnavi 'Zahr-e-Ishq' a romantic tale written in lyrical verse
آپ کی گر مہربانی ہو چکی تو ہماری زندگانی ہو چکی بیٹھ کر اٹھے نہ کوئے یار سے انتہائے ناتوانی ہو چکی ہنس دیا رونے پہ وہ اے چشم تر آبرو اشکوں کی پانی ہو چکی
کہنے میں نہیں ہیں وہ ہمارے کئی دن سے پھرتے ہیں انہیں غیر ابھارے کئی دن سے جلوے نہیں دیکھے جو تمہارے کئی دن سے اندھیرے ہیں نزدیک ہمارے کئی دن سے بے صبح نکلتا نہیں وو رات کو گھر سے خورشید کے انداز ہیں سارے کئی دن سے ہم جان گئے آنکھ ملاؤ نہ ملاؤ بگڑے ہوئے تیور ہیں تمہارے کئی دن ...