Mirza Qadir Bakhsh Sabir Dehlavi

مرزا قادر بخش صابر دہلوی

  • 1808 - 1882

مرزا قادر بخش صابر دہلوی کی غزل

    پہلے نہ اڑایا کسی بیکس کے جگر کو

    پہلے نہ اڑایا کسی بیکس کے جگر کو پر ہم نے لگائے ہیں ترے تیر نظر کو ہے تیر نگہ بزم عدو میں مری جانب غصے میں چھپایا ہے محبت کی نظر کو کیوں آتش گل باغ میں ہے تیز کہ ہم آپ اٹھ جائیں گے اے شبنم‌‌ شاداب سحر کو دن رات کا فرق ان کی محبت میں ہے اب تو وعدہ تو کیا شام کا اور آئے سحر کو دل ...

    مزید پڑھیے

    کیا خبر کہہ دیا کیا آپ نے دیوانے سے

    کیا خبر کہہ دیا کیا آپ نے دیوانے سے اب دل وحشی بہلتا نہیں بہلانے سے جس کو کچھ ربط ہے ساقی ترے میخانے سے اس کو مطلب ہے نہ شیشے سے نہ پیمانے سے ہم کو تھا چین میسر اسی دیوانے سے مٹ گئے ہم بھی دل زار کے مٹ جانے سے زندگی ملتی ہے جس شخص کو مر جانے سے وہ سمجھ سکتا ہے ناصح ترے سمجھانے ...

    مزید پڑھیے